Friday, 29 March 2019

توارد اور سرقہ کیا ہیں؟ اقسام و احکام اور قیود و احترازات کا بیان


توارُد کیا ہے؟ 

”غیر ارادی طور پر کسی خیال کا دو اشخاص کی منظومات میں داخل ہونا“

مصطفى غلفان کی کتاب ”المعجم الموحد لمصطلحات اللسانيات“ صفحہ نمبر 40 پر توارد کی یہ تعریف رقم ہے کہ :
”التوارد : هو ورود لفظين معا في سياق معين“
ترجمہ : ”مخصوص سیاق و سباق میں دو الفاظ کا ایک ساتھ جمع ہو جانا“
مخصوص سیاق و سباق سے مراد معنیٰ کی ہم آہنگی ہے. یعنی مخصوص معنیٰ میں دو الفاظ کا وارد ہو جانا.

عربی کی ایک لغت ”معجم الرائد“ میں ہے کہ :
[توارد الشاعران : اتفقا في معنى واحد يرد بلفظ واحد من غير أن ينقل أحدهما عن الآخر] 

ترجمہ : ”دو ہم خیال منظومات کا اتفاقی طور پر دو مختلف شعراء کے کلام میں پایا جانا توارُدِ شاعر کہلاتا ہے“

توارد  کی چند مثالیں دیکھیں کہ :
یاد آیا مجھے گھر دیکھ کے دشت
گھر کو دیکھ کے گھر یاد آیا
یاسمین کنیز، شاگردِ انشاء

جبکہ غالب کا شعر ہے کہ :
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

کشاف تنقیدی اصطلاحات کے صفحہ نمبر 51 پر لکھا ہے کہ خوش حال خان خٹک (متوفی ١١٠٠ھ) کے بیٹے عبدالقادر خان نے جو باپ کی طرح پشتو زبان کا شاعر تھا اس کے ایک شعر کا خیال غالب نے اپنے شعر میں باندھ لیا، عبدالقادر کہتا ہے کہ :
زمین پر بہت سی خوبصورت مدفون ہستیاں ہیں، جو پھولوں کی شکل میں نمودار ہوگئی ہیں

اب اسی خیال کے سہارے غالب کا شعر دیکھیں کہ :
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!
...

داغ دہلوی کا مشہور شعر ہے کہ :
رُخِ رَوشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

اس شعر کے بعد بیخود دہلوی سے توارد واقع ہوا ہے :
جس وقت ٹھہر ا شمع سے آکر مقابلہ
پروانے ہوں گے آپ کے رُخسار کی طرف
...

ناسخؔ لکھنوی کا شعر ہے کہ :
قفس کی تیلیاں ٹوٹیں تو کیا ہوا ناسخؔ
تڑپ کے رہ گیا اب اُس کے بال و پر ہی نہیں

اس پر جلیلؔ مانک پوری کو توارد ہوا کہ :
اُس گرفتار کی پوچھو نہ تڑپ جس کے لئے
در قفس کا ہو کھُلا ‘طاقتِ پرواز نہ ہو
...

شفقؔ کا شعر ہے کہ :
اﷲ رے میرے سوزشِ پنہاں کی گرمیاں
گردن کا طوق ‘پاؤں کی زنجیر لال ہے

اس پر امیرؔ مینائی کا توارد ملاحظہ فرمائیں کہ :
اﷲ رے گرمیاں ترے وحشی کی اے پری
زنجیر پاؤں میں جو پڑی لال ہوگئی
...

شفقؔ کا شعر دیکھیں کہ :
جب سے کسی نوکِ مژہ کا خیال ہے
نشتر ہے‘تیر ہے‘مرے تن پر جو بال ہے

اس پر استاد ابراهيم ذوقؔ کا توارد ملاحظہ کریں کہ :
جب سے دِل میں ہے کسی کی نوکِ مژگاں کا خیال ہے
نشترِ زنبور ہے تن پر جو میرے بال ہے
...
داغ دہلوی لا ایک شعر ہے کہ :
ہوش و حواس تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

اس پر احمد رضا خان بریلوی کا توارد دیکھیں کہ :
جان و دل، ہوش و خِرد، سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو ساماں گیا
...

مرزا غالبؔ کا مشہور مطلع ہے:
ہر ایک بات پر کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
غالبؔ ہی کے ہم عصر صاحب زادہ نثار علی رام پوری (ولادت ۱۲۴۸؁ھ) کہتے ہیں:
مجھ سے کہتے ہیں وہ کہ تو کیا ہے
کوئی پوچھے یہ گفتگو کیا ہے
غالبؔ کی ولادت ۱۲۱۴؁ھ کی ہے۔ نثارؔ ، غالبؔ سے چھوٹے ہیں۔ معلوم نہیں غالبؔ نے اپنی غزل کس زمانے میں کہی ہے اور نثارؔ نے کب۔ غزل کی اِس زمین میں یہ مضمون بلا شبہ توارد ہوسکتا ہے۔ بہر حال نثارؔ کا شعر بہتر ہے۔ ’’یہ اندازِگفتگو‘‘ کے مقابلے میں صرف ’’یہ گفتگو‘‘ اچھا معلوم ہوتا ہے۔

--------

سرقہ کیا ہے؟

”کسی تحریر کا وہ حصہ جسے کوئی اس طرز پر اپنی تحریر میں شامل کرے جیسے وہ اسی کا کام ہے“

یعنی کسی کی تحریر کو من و عن اپنے نام سے پیش کردینا۔ یا کسی مصنف کی تحریر کے بنیادی خیال کو چرا کر اسے اپنے الفاظ میں ڈھال دینا۔ یا پھر مختلف مصنفین کی تحاریر کے ٹکڑے جمع کر کے ان سے اپنا مضمون بنا لینا۔

عربی لغت ”معجم الرائد“ میں ہے کہ :
”سَرَقة  في الأدب : أن يأخذ الأديب شيئا من أدب غيره وينسبه إلى نفسه“
ترجمہ : سرقۂ فی الأدب سے مراد کسی ادیب کا دوسرے کے کلام کو اخذ کرکے اپنی طرف نسبت کر دینا ہے

سرقہ کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
عرفیؔ جو مرزا غالبؔ سے کئی صدیوں پیشتر گزرے ہیں، وہ فرماتے ہیں:
منم آں سیر زجاں گشتہ کہ با تیغ و کفن
تا درِ خانئہ جلّاد غزل خواں رفتم

غالب کا شعر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ یہ توارد تو ہے نہیں، ترجمہ بھی نہیں ہے۔ استفادہ کہیں گے یا سرقہ؟ میں نہ تو مرزا یاس یگانہؔ چنگیزی ہوں کہ دشمنی کروں، نہ اندھا کہ کہوں عرفی کا شعر نظر نہیں آ رہا، آپ خود غالب کا یہ شعر دیکھیں اور خود فیصلہ صادر کریں :
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عُذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا؟

داغ دہلوی کا شعر ہے کہ :
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
باندھ کے رکھا ہے تم نے جو وہ مال اچھا ہے

اور پھر امیر مینائی کا شعر دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اس قدر لفظی و معنوی اشتراک سرقہ نہیں تو اور کیا ہے؟
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

ایک لرلطف بات یہ دیکھیں کہ ایک غزل جو حافظ شیرقزی کے دیوان میں ہے، بعینہٖ لفظ بہ لفظ مکمل غزل سلمان ساؤجی کی کلیات میں بھی موجود ہے. اس کا مطلع ملاحظہ فرمائیں کہ :
ز باغِ وصل تو یابد ریاضِ رضواں آب
نہ تابِ ہجر تو وارد شرارِ دوزخ تاب
بحوالہ : سرقے کی روایت، تاریخ کی روشنی میں، سید خالد جامعی، صفحہ 17
---------

سرقہ میں چوری کا قصد ہوتا ہے جبکہ توارد میں مطابقت محض اتفاقیہ ہوتی ہے. سخاؔ دہلوی نے بہت عمدہ بات کی: ’’سرقہ کی خبر یا تو سرقہ کرنے والے کو ہوتی ہے یا اس کے خدا کو‘‘؛ یہ بات صد فی صد درست نہ بھی ہو تو بھی قرینِ قیاس ضرور ہے۔ یہاں چند اصولی نوعیت کی بحث ملاحظہ فرمائیں :

دنیائے خیال میں اکثر ہوجاتا ہے کہ ایک مضمون جو پہلے سے کسی شاعر نے اپنے شعر میں باندھا، بعد میں کسی اور کے ذہن میں توارد ہوجائے۔ اس کی تین وجوہات ہیں:
پہلی، دورانِ مطالعہ کوئی خیال یا خوبصورت مضمون کسی شاعر نے پڑھ لیا جو اس کے شعور کے کسی کونے میں محفوظ ہوگیا۔ عرصے بعد اسے یاد نہ رہا کہ یہ مضمون کس کا تھا اور شعوری ارادے کے بغیر وہی مضمون دورانِ فکرِ شعر نظم ہوگیا۔
دوسری، اتفاقاً بھی کوئی ایسا خیال قدرتی طور پر ذہنِ شاعر سے ٹپک سکتا ہے، جو اس سے قبل کسی نے باندھا ہو۔
تیسری وجہ، ارادتاً کسی کے خیال کو اپنے لفظوں میں بیان کر دیا گیا (یہ سرقہ ہے)۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن صفحہ نمبر85-86 سے انتخاب)

جب دو مختلف شاعروں کے اشعار میں تخیل اور مضمون ایک ہو تو ناقدین اسے سرقہ قرار دیتے ہیں۔ مزید اگر تشبیہہ اور استعارہ بھی ایک جیسا ھو تو وہ ثابت شدہ سرقہ کہلاۓ گا۔

چونکہ شاعری میں معدودے چند مثالیں ہی ملیں گی جہاں ایک شاعر کا پورا کلام سرقہ سے پاک ھو ورنہ اکثر شعراء کے اشعار میں سرقہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ سرقہ کی حمایت میں ناروا قسم کی تو جیہیں پیش کی جاتی رہی ہیں جیسے یہ کہنا کہ چونکہ ہر شاعر سرقہ سے متہم ہے تو اسے سرقہ نہیں بلکہ توارد، اخذ، تقلید، مطابقت یا متحدالخیا لی سمجھنا چاہیے۔ بہرحال سرقہ کی جیسے بھی خوبصورت لفظوں سے توجیہہ کی جاۓ سرقہ، سرقہ ہی ہے۔

سرقہ کی اقسام :
سرقات شعری کی دو قسمیں ہیں
(1) سرقہ ظاہر
(2) سرقہ غیر ظاہر

سرقۂ ظاہر کی قسمیں :

(الف) نسخ و انتحال
بعینہٖ دوسرے شاعر کے شعر کو اپنا کر لینا اور یہ بہت بڑا عیب ہے.

(ب) مسخ و اغارہ
لفظی ادل بدل سے دوسرے شاعر کے شعر کو اپنا کر لینا۔ اگر دوسرے شعر کی ترتیب پہلے سے بہتر ہو تو سرقہ نہیں ترقی ہوتی ہے اور یہ جائز ہے ورنہ نہیں۔

(ج) المام سلخ
دوسرے شاعر کے شعر کا مضمون اپنے الفاظ میں ادا کر کے اپنا لینا۔

سرقۂ غیر ظاہر کی قسمیں :
سرقہ غیر ظاہر معیوب نہیں بلکہ اگر اچھا تصرف ہے تو مستحسن سمجھا جاتا ہے. اس کی متعدد صورتیں ہیں :

(1) دو شاعروں کے اشعار میں معنوی مشابہت کا ہونا۔
(2) ایک کے شعر میں دعویٰ خاص ہو اور دوسرے شعر میں عام۔
(3) کسی کے مضمون کو تصرف سے نقل کرنا۔
(4) دوسرے شعر کے مضمون کا پہلے شعر  سے متضاد و مخالف ہونا۔
(5) پہلے شعر کے مضمون میں مستحسن تصرف کرنا اور یہ بہت مستحسن ہے.
بحوالہ : سرقے کی روایت، تاریخ کی روشنی میں، سید خالد جامعی، صفحہ 13

نوٹ :
کسی خاص غرض میں شعرا کا اتفاق سرقہ نہیں کہلاتا (جیسے شجاعت یا سخاوت وغیرہ سے کسی کی تعریف کرنا) کیونکہ ایسی باتیں تمام لوگوں کی عقول و عادات میں مذکور ہوتی ہیں۔ البتہ اس غرض پر دلالت کرنے کے لئے جو تشبیہات اور استعارات و کنایات استعمال کئے جائیں ان میں سرقہ ہو سکتا ہے۔ مگر جو استعارات و تشبیہات نہایت مشہور ہیں، جیسے شجاع کو اسد سے تشبیہ دینا اور سخی کو دریا سے وغیرہ وغیرہ ان میں سرقہ نہیں ہوتا۔

سرقۂ شعری کے ذکر میں، میں نے متداولہ رائے سے کسی قدر اختلاف کیا ہے ۔ متداولہ رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شعر بجنسہ یا بتغیر الفاظ کسی دوسرے کلام میں پاتا جائے تو اس کو سرقہ سمجھنا چاہیے میں نے اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ سرقہ اس وقت سمجھا جائے گا اگر اس دوسرے شاعر نے باوجود علم کے بدنیتی سے یعنی لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ میرا شعر ہے وہ شعر بجنسہ یا اس کا مضمون بتغیر الفاظ چرایا ہو۔ مثلاً غالب کا مطلع ہے کہ :
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن بڑھ آئیں گے کیا

اور شاد لکھنوی کہتے ہیں

کوئی دم راحت جنوں کے ہاتھ پائیں گے کیا
زخم بھر جائیں گے تو ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا۔

اس میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شاد کو غالب کے شعر سے آگاہی تھی تو یقیناً یہ سرقہ کی حد میں آتا ہے۔

البتہ اس قاعدے سے وہ اشعار مستثنیٰ ہیں جن میں کوئی محاورہ یا مثل باندھی جائے ۔ مثلاً سانپ نکل گیا، اب لکیر پیٹا کرو  ایک مثل ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ ایک زریں موقعہ ہاتھ سے جاتا رہا اب اس کی کوشش بیکار ہے. اس مثل کو ان چار شاعروں نے باندھا ہے ۔

خیالِ زلف دو تا میں نصیر پیٹا کر
گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹ کر
(شاہ نصیر دہلوی)

سانپ تو بھاگ گیا پیٹتے ہیں لوگ لکیر
خوب پوشیدہ کئے تم نے دکھا کر گیسو
(تمنا)

سردے دے مارو گیسوئے جاناں کی یاد میں
پیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا
(رند)

دکھلا کے مانگ گیسوؤں والا نکل گیا
پیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا
(شاد لکھنوی)

ان میں کوئی شعر کسی دوسرے شعر کا سرقہ نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ ہر شاعر نے ضرب المثل کو باندھا ہے مگر تعجب ہے کہ شاد ایسا استاد اور کہنہ مشق شاعر نے رند کا پورے کا پورا مصرعہ بلا کیسی تغیر و تبدیل کر کے اپنے کلام میں شامل کر لیا۔

نوٹ :
جب تک با وثوق ذرائع سے یہ علم نہ ہو کہ سرقہ کیا گیا ہے اس وقت تک کسی شعر پر سرقہ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

Monday, 25 March 2019

رپورٹ : لیکچرار بہ عُنوان ”جمالیات کیا ہے؟ مشرقی ادب میں اس کے نظائر“

مرتب : غلام مصطفیٰ دائم اعوان

موضوعاتی لیکچرز ہماری روایت اور ادبی تاریخ کا حصہ ہیں، اسی روایت کی پیروی میں عالمی بزمِ گیسوئے سُخَن کے زیرِ انتظام 25 مارچ بروز اتوار، 2019 کو لیکچر بہ عُنوان : ”جمالیات کیا ہے؟ مشرقی ادب میں اس کے نظائر کا بیان“ انعقاد کیا گیا. ہماری مہمان شخصیت تھے : محترم المقام ڈاکٹر افتخار الحق صاحب
ڈاکٹر صاحب ادبی دنیا میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں، تعارف کے محتاج نہیں. ان کی شعری و نثری تخلیقات میں عصرِ جدید کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ روایت اور کلاسیکیت کے نظائر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں. پاکستان کے شہر لاہور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی پشت پر ایسے گوہرِ تابدار زندہ چل پھر رہے ہیں. آپ نے علامہ اقبال میڈیکل کالج اور پھر پنجابی یونیورسٹی سے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو عبور کیا. اس کے علاوہ آپ ایک سنجیدہ گو شاعر اور نقاد بھی ہیں جس کا اندازہ آپ کے ابھی کے لیکچر سے بخوبی لگایا جا سکے گا. آپ کا اپنے بارے میں یہ کہنا ہے کہ :
Medicine: my education.Poetry: my passion.Teaching :MY PROPASSION (profession cum passion)
یعنی طب میری تعلیم، شعر میرا جذبہ اور تدریس میرا شعبہ

اس مختصر سے تعارف کے بعد آئیں اور ذیل میں ڈاکٹر صاحب کا لیکچر ملاحظہ فرمائیں :

         =×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=


”جمالیات کیا ہے؟ مشرقی ادب سے نظائر“
 (پہلا حصّہ)

مجھ سے جب اس موضوع پر کچھ تدریسی سی گفتگو کا برادرم غلام مصطفیٰ دائم نے کہا تو میں بہت دیر تک گویم مشکل وگر نہ گویم کی کیفیت سے دوچار رہا کہ اس موضوع کے دقیق ہونے کے ساتھ اس کی وسعت سے مجھے سہمائے رکھا۔ تاہم اب بیِڑہ اٹھا ہی لیا ہے تو اپنے محدود علم سے اس بحرِ بیکراں کو کوزۂ برقیاتی ابلاغ میں بند کرنے کی سعی کرتا ہوں۔
لفظ جمالیت عربی الاصل ہے اور اس کا مادہ حسن و خوبصورتی سے متعلق ہے۔ عربی اور فارسی ادب میں جمالیات کے موضوع پر براہِ راست اور بالواسطہ بہت زیادہ نہیں لکھا گیا کہ ان السنہ کا دامنِ تخلیق اس قدر کشادہ ہے کہ تنقیدی عنصر کی طرف شاید بیشتر لکھاریوں کا دھیان گیا ہی نہیں۔ جمالیات پر باقاعدہ تفصیلی تحقیقی مواد ہمیں مغرب سے لینن، ہیگل ، کانٹ اور کچھ اور مفکرین کے توسل سے انیسویں اور بیسویں میں ملنا شروع ہوتا ہے۔ قدیم یونانی فلسفیوں کے مطابق جمال/حسن اور خیر/نیکی مترادف الفاظ تھے۔ پھر کلاسیکی و نسبتاً جدید دور میں انگریزی لفظ
Aesthetics
کو جمالیات کا مترادف قرار دینے میں کافی مباحث ہوئے جن میں یہ کہا گیا کہ اس لفظ کا ترجمہ “ حسیات/ذوقیات” وغیرہ مناسب تر ہوگا۔ تاہم اگر اس جامع اصطلاح کا معروضی جائزہ لیں تو بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ جمالیات ہی اس کا بہترین اردو متبادل ہے کیونکہ حسِ ذوق کا اظہار ہی جمالیات کی صورت ہوتا ہے۔
میری کوشش ہوگی کہ مشرقی ادب کا مکمل احاطہ کرنے کی بجائے عربی و فارسی ادب سے جمالیات کی کچھ امثلہ کو بنیاد بناتے ہوئے اردو ادب میں اس اہم جہت پر بات کی جائے۔قبلِ اسلام کے ایّام العرب /جاہلیّہ دور کے سبع معلّقات میں اپنے قبائل کی جنگوں کے احوال کے ساتھ ساتھ جمالیات کا عنصر خوبصورت عورتوں کی تعریف میں لکھے گئے طویل قصائد کی صورت ملتا ہے۔
نبیِ آخرالزّماں کی ولادتِ باسعادت کے بعد آپ کے الوہی حسن و وجاہت پر جناب ابوطالب اور امّ معبد کی اولین نعوت میں جمالیات کے ایک تقدیسی پہلو کی دریافت ہوتی ہے۔سفرِ ہجرت کے بعد مدینے کی بچیوں کے ان خوش آمدیدی کلمات میں جمالیات کا عکس بہت نمایاں دکھائی دیتا ہے:
طلع البدرُ علینا
اس کے بعد حضرت حسّان بن ثابت نے اپنی نعت ہائے مبارکہ میں سید البشر و امام الانبیا کی وجاہت بیان کرکے عربی شعری جمالیات کو دوام بخشا۔ فارس میں اسلام کی آمد کے بعد فارسی نعت و منقبت میں جمالیات کے کچھ اور پہلو دریافت کیے گئے۔ القصّہ فارسی کا ایک شعر اپنی جمالیاتی ندرت کے سبب کئی نعتوں کے مقابل نمایاں نظر آتا ہے:
حسنِ یوسف، دمِ عیسٰی ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری!!!!!!

اب ہم آٹھویں صدی عیسوی میں برّ صغیر پاک و ہند میں اسلام کی آمد کے بعد اردو سخن میں جمالیات کی منزل تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔ عربوں کی اس خطے میں آمد اور قیام چند صدیوں پر محیط اور بیشتر سندھ تک محدود ہے۔
اسی لیے قدیم و کلاسیکی اردو ادب پر عربی کی چھاپ اتنی گہری نہیں جتنی فارسی کی ہے کہ گیارھویں صدی سے انیسویں صدی تک اردو نے سلاطینِ دلّی اور مغلوں کے دربار میں پرورش پائی ۔ اسی دور میں جنوبی ایشیا کی جمالیات پر مبنی ایک الگ صنف نے قصیدے سمیت کچھ اور اصناف کے بطن سے جنم لیا جس کا نام غزل ہے۔اٹھاوریں صدی سے اب تک جن معدودے ناقدین و مبصرین نے جمالیات پر کام کیا اس کا بیشتر حصہ اسی صنفِ سخن کے حوالے سے ہے۔

——————

”جمالیات کیا ہے: مشرقی ادب سے نظائر“
(دوسرا حصہ)

قارئینِ محترم! راقم کے مضمون کے پہلے حصے میں شعر و سخن میں جمالیاتی جز کی جڑیں عربی اور فارسی ادب کے مختصر سے تذکرے کے تناظر میں ڈھونڈنے کی سعی کی گئی۔جمالیات کی تعریف متعین کرنے کی بات ہوئی اور کچھ نظائر سے اس موضوع کی عمارت کی بنیادیں بھرنے کا کام ہوا۔جمالیات کو بیک وقت فلسفے اور ادب کا موضوع گردانا جاتا ہے ، تاہم ہمارا مرکزِ گفتگو ادب میں جمالیات کا تصور ہے۔
“ جمالیات کیا ہے: مشرقی ادب سے نظائر”

 یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس موضوع پر لکھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ۔ڈاکٹر شکیل الرّحمان اور مجنوں گورکھپوری ان چند علمائے جمالیات میں سے ہیں جنھوں نے اردو ادب میں جمالیات کے اثرات کو گزشتہ چار صدیوں کی نثری و منظوم تحریروں میں بہت تحقیق کرکے تلاشا ہے ۔ انکے علاوہ عبد الماجد دریابادی ،نصیر احمد ناصر اور قاضی عبد السّتّار نے بھی اس موضوع پر گرانقدر کام کیا۔بایں ہمہ اردو ادب میں اس موضوع پر مسلسل کام کی بیحد گنجائش ہے۔
اردو شاعری میں جمالیات کا عنصر امیر خسرو، قلی قطب شاہ اور ولی دکنی جیسے اولین و مستند شعرا کے ہاں ملتا ہے۔خسرو کو چونکہ موسیقی اور شاعری میں بیک وقت یدِ طولٰی حاصل تھا تو انھوں نے گیتوں کے ذریعے اپنی شاعرانہ صلاحیت کا اظہار کیا ، خاص طور پر ایسے گیت جنھیں لوک موسیقی سے خاص علاقہ تھا اور نتیجتاً ان کے متعدد گیت شادی بیاہ کی رسموں میں اس قدر مقبول ہوئے کہ اب بھی انکے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔
ابتدا میں انکے کلام پر گہری فارسی چھاپ ہے جو رفتہ رفتہ ہندی، دکنی ، اردو/ریختہ اور فارسی کا آمیزہ بنتا چلا جاتا ہے۔ فارسی رنگ میں جمالیات کا پرتو اس شعر میں دیکھیے:

ای چہرۂ زیبائی تو رشکِ بتانِ آذری
ہر چند وصفت( تیرا وصف) می کنم در حسن ازاں بالا تری

موخرالذّکر رنگ میں جمالیات کا ذائقہ ان شعروں میں چکھیے:

گور سوئے سیج پر مکھ پر ڈالے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی سب دیس

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے
گھر ناری کنواری کہے سو کہے
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

سب سکھیوں میں چادر میری میلی
دیکھیں ہنس ہنس ناری
اب کے بہار چادر میری رنگ دے
پیا رکھ لے لاج ہماری

گوری گوری بانہیاں ہری ہری چوڑیاں
بانہیاں پکڑ دھر لینی رے مو سے

قلی قطب شاہ کے کلام کی جمالیات کیلیے یہ چند اشعار کافی ہیں:

پیا کا عشق ہے مرا یار جانی
بن اس نیہ کوں جیوں کر میں نہ جانی

بتخانہ نین ترے ہور بت نین کیاں پتلیاں
مُج نین میں پوجا ری ہوجا ادھان ہماری

ان اشعار میں جمالیاتی عنصر اپنی جگہ لیکن ایک بات جس کی طرف کم کم دھیان دیا گیا وہ یہ ہے کہ خسرو نے ایسا کلام لکھ کر نسائی اور تانیثی ادب کی بنیاد رکھی بعینہِ اسی طرح جیسے کچھ صدیوں بعد علامہ راشد الخیری نے “ مناجاتِ بیوہ “ جیسے شہکار لکھ کر نثر میں اردو ادب کی اسی مخصوص صنف پر لکھنے کی شروعات کیں۔ گویا جمالیات کی چلمن سے اردو ادب میں نسائی ادب کے خدوخال صدیوں پہلے ہی جھانکنے لگ گئے تھے۔یہ امر اپنی جگہ اردو ادب کیلیے اعزاز رکھتا ہے ۔ دراصل نسائیت اور جمالیت متوازی چلتے چلتے بھی جگہ جگہ ایک دوسرے کو کاٹتی لکیروں کی مانند ہیں۔سو ان دو کا باہم ہونا بلکہ اک دوسرے میں جذب ہونا لامحالہ امر ٹھہرا۔
——————

”جمالیات کیا ہے: مشرقی ادب سے نظائر“
(تیسرا حصہ)

احباب! دوسرے حصے میں اردو ادب کے بالکل ابتدائی دور سے امیر خسرو وغیرہ کی شاعری سے جمالیاتی امثلہ پیش کی گئیں۔ بیشتر اشعار میں برج بھاشا یا اردو کی ابتدائی صورت میں اظہار ملتا ہے جسکا تعلق تاریخِ زبان و ادبِ اردو سے ہے جو اپنی جگہ ایک بڑا موضوع ہے۔ ان اشعار میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ کئی اشعار میں شاعر نے واحد متکلم مونث میں بات کی ہے اور نسوانی جذباتیت کو منظوم کیا ہے ۔ ان شعروں میں عاشق و معشوق کے مابین تعلق اور معشوقہ کی خودسپردگی جبکہ عاشق کی طرف سے محبوبہ کے جسمانی خطوط کا کافی مہذبانہ اور شائستہ بلکہ کافی حد تک سادہ انداز میں بیان ملتا ہے۔ کم و بیش یہی صورت سترھویں اور اٹھارویں صدی تک ملتی ہے لیکن رفتہ رفتہ، ایک طرف بسا اوقات معاملہ بندی کا پہلو جمالیات کی بڑی شاخ بنتا چلا جاتا ہے تو دوسری طرف اردو زبان بھی جدت آمادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔
اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا سراغ ماہ لقا چندا یا لطف النّسا امتیاز کے ناموں سے اٹھاوریں صدی میں ملتا ہے۔چندا جی کے کلام میں جمالیات کی مختلف تہیں بیشتر مقامات پر ملتی ہیں ، جیسے:

 انکو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی
چاہتے ہیں جو بار بار شراب

لطف النّسا امتیاز کو کافی عرصے تک شاعرہ کی جگہ شاعر گردانا گیا کیونکہ انھوں نے شاعری بھی مردانہ لہجے میں کی ، جیسا کہ ان اشعار سے تاثر ملتا ہے:

ہم سے نظروں کو چرا غیروں سے کرتا باتیں
رس بھری آنکھیں پھرا کر وہ رسیلا میرا!!!!

زلفِ عارض پہ تری سورۂ والّلیل ضحٰی!!!!!
کس نے دیکھا ہے کبھی کفر میں اسلام کہیں

 یہ بات قدرے حیران کن ہے کہ امتیاز بی بی نے مردانہ لہجے میں شاعری کو کیوں ترجیح دی؟ ممکن ہے تحیر و تجسس کی فضا قائم کرنا چاہتی ہوں یا عشق میں “ من تو شدم تو من شدی” تک نوبت جاپہنچی ہو جس نے ان سے اتنی جمالیت بھری شاعری کروائی ۔پہلے شعر میں تو خیر رس بھری آنکھوں سے ہر دو جنس مراد لی جا سکتی ہے کہ رس بذاتِ خود ذومعنی ہے: لطف/حظ یا نچوڑ ، جیسے پھل کا عرق وغیرہ۔
سترھویں صدی کے اختتام اور اٹھارویں صدی کے پہلے ربع تک ولی دکنی جمالیاتی شاعری میں ایک بڑا نام ہے اور بقول ڈاکٹر عبداللہ وہ “ جمال دوست شاعر” کے منصب پر فائز ہیں۔انکے ہاں حسن پرستی کی تحریک جابجا ملتی ہے لیکن اس میں جنسیت کی طرف رحجان کہیں سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس دلیل کا ثبوت ایسے اشعار ہیں:

نکل اے دلربا گھر سوں کہ وقتِ بے حجابی ہے
چمن میں چل بہارِ نسترن ہے ماہ تابی کا!!!!!!!!

وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا!!!!!!!!
خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا

موجِ دریا کوں دیکھنے مت جا
دیکھ تو زلفِ عنبریں کی ادا

تمام اشعار پاکیزہ جمالیات سے مزیّن ہیں اور گزشتہ پیش کردہ شعرا کے مقابلے میں ولی کا اظہار بھی نسبتاً زیادہ جدید تشبیہات و استعارات لیے ہوئے ہے۔
اسی دور میں سراج اورنگ آبادی کا نام بھی جمالیاتی سخنوری کے زمرے میں نمایاں مرتبے پر ملتا ہے۔گو کہ انداز معاصرانہ شاعری سا ہی ہے تاہم بعضے اشعار انکی جمالیت کو ممتاز کرتے ہیں اور اسی باعث محمد حسین آزاد نے انھیں اردو شاعری کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ نمونۂ کلام ملاحظہ کیجیے:

جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا
اس راہ میں غبار ہوا کیا بجا ہوا

رنگِ تصوف کی جمالیات میں دھلے کچھ اشعار تو ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوئے جیسے:

خبرِ تحیّرِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی!!!!!!!!
نہ تو تُو رہا نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

کیا خاکِ آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراج کو
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی!!!!!!

تصوف کی جمالیات اپنی جگہ ایک بہت بڑا موضوع ہے لیکن اس کا ذکر آئندہ شعرا کے ہاں عشقِ حقیقی ( جمالیاتِ تصوف) بمقابلہ عشقِ مجازی( جمالیاتِ معشوق/معشوقہ) کے حوالے سے آئے گا۔ ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی کے ساتھ ہی اردو شاعری کا ایک بڑا سنگِ میل ہوتا ہے اور اردو سخن کی شاہراہ اگلی صدیوں میں کشادہ تر ہوتی چلی جاتی ہے کہ اس پر میر ، سودا، غالب ، درد، ذوق اور مومن جیسے بڑے بڑے مستقر آتے چلے جاتے ہیں۔انکے ہاں جمالیاتی مطالعہ نسبتاً دلچسپ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
——————

”جمالیات کیا ہے: مشرقی ادب سے نظائر“
(چوتھا حصّہ)

احباب! گزشتہ قسط میں ہم نے اردو ادب میں جمالیات کا احاطہ اٹھارویں صدی تک کیا اور اسکا اضافی فائدہ یہ ہوا کہ اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ ہوتا چلا گیا۔ یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادب کے دھڑ کا دوسرا بازو ، نثر کیوں خارج از مذاکرہ رہا۔ کیا جمالیات محض اصنافِ سخن تک ہی محدود ہے؟ یہ سوال جتنا اہم ہے اسکا جواب اتنا ہی سادہ ہے۔ عالمی ادب میں قدیم یونان سے لے کر یورپ و ایشیا کی کلاسیکی ادبی تاریخ تک یہ ایک پراسرار اور دلچسپ قدرِ مشترک ہے کہ ابتدائی ادبی اظہار ہمیشہ سے نظم کی صورت ہوتا آیا ہے۔
سو عربی ، فارسی اور اردو ادب بھی اس ضمن میں استثنائی حیثیت نہیں رکھتے ۔
خیر! اٹھارویں صدی کے تقریباً وسط سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک شعرا اور نثر نگاروں کی ایک بہت بڑی کھیپ سامنے آتی ہے اور اسکے ساتھ ہی جمالیات کے اظہار کی جہات میں بھی تنوّع آتا چلا جاتا ہے۔میر تقی میر اردو کے پہلے عظیم شاعر کے طور پر اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان کے جلو میں شعرا کی ایک فوجِ ظفر موج جمود کے عدو پر لشکر کشی کرتی نظر آتی ہے۔بایں ہمہ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسی زمانے میں ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا زوال ۱۷۰۷ میں اورنگزیب کی وفات کے بعد بہت سرعت سے ہونے لگا اور اسی مناسبت سے اس دور کی شاعری میں “ انحطاط/زوال کی جمالیات “ کا تذکرہ ناگزیر ہے:

شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
جہاں دبستانِ دلّی میں سیاسی زوال کے اثرات شعری جمالیات میں نظر آتے ہیں وہیں دبستانِ لکھنئو میں اس سیاسی منظر نامے سے فراریت متشکل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اخلاقی زوال سے منسلک سوقیانہ جمالیات شعرا سے ایسے شعر کہلواتی ہے:
اے پری تو نے جو پہنی ہے سنہری انگیہ
آج آتی ہے نظر سونے کی چڑیا مجھ کو

گنگا میں جب نہا کے کل اس نے بال باندھے
ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے

اس کے ساتھ ساتھ دلّی میں داغ دہلوی بھی ایسے شعر کہنے سے نہیں چوکتے:
وصل کی شب پلنگ پر اپنے
مثل چیتے کے وہ مچلتے ہیں
تاہم دلّی کی عمومی ادبی فضا لکھنئو کے مقابل کہیں بہتر تھی کہ یہاں میر اور خواجہ میر درد جیسے شعرا ارفع معیار کی شاعری کرنے میں مصروف تھے۔ درد کی شاعری میں تو عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کہیں بالکل جدا تو کہیں گلے ملتے نظر آتے ہیں:

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

تیرا ہی حسن جگ میں ہر چند موجزن ہے
تُس پر بھی تشنہ کامِ دیدار ہیں تو ہم ہیں
(درد)
ادھر میر کا اپنا ہی رنگِ جمالیات ان سے ایسے شعر کہلواتا ہے:

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے!!!!!!
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کر چلے!!!!!!!!

یہ شعر اس آفاقی جمالیات کے نمائندہ ہیں جس کی زندگی ابدی ہے۔خالق و مخلوق کے تعلق کو میر نے تصوف اور فلسفے کے رنگ میں یوں رنگا:

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

عہدِ جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

اس سب کے باوجود میر نے جمالیاتِ عشق میں لازوال شعر کہے :
نازکی اس کے لب کی کیا کہئیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

لکھنئو میں خواجہ حیدر علی آتش جیسے شعرا نے طوائف بازی والی سستی شاعری سے دور رکھ کر جمالیات پر بہت عمدہ شعر کہے:

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسّر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

پھر اٹھارویں صدی کے اواخر میں اپنے تمام ہم عصروں پر غلبہ پانے والا اسد اللہ خاں غالب پیدا ہوا جس نے جمالیات کو ایک منفرد رنگ میں برتا اور واقعی خود کو غالب ثابت کر دکھایا جب غیب سے ایسے مضامین نوائے سروش کے توسل سے اس نے کہہ کر اپنا نام امر کرلیا:

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
قیامت کہ اے محوِ آئینہ داری
تجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

غالب کے ہم عصر مومن نے جمالیاتی اشعار میں اپنے نام کا خوب ذومعنی استعمال کیا:

کثرتِ سجدہ سے وہ نقشِ قدم
کہیں پامالِ سر نہ ہوجائے

اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

الجھا ہے پانوں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا!!!!!

غالب اور اس کے معاصرین نے ۱۸۵۷ کی قیامت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اپنے حواس قائم رکھے۔ تاہم اس عظیم سانحے نے حالی جیسے غالب کے شاگردوں سے ایسے شعر کہلوا دیے:

اب بھاگتے ہیں سایۂ عشقِ بتاں سے ہم!!!!!!!!!
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم
آگے بڑھے نہ قصّۂ عشقِ بتاں سے ہم
سب کچھ کہا مگر نہ کھلے رازداں سے ہم
 تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھر تم سے
امید بھی نہ رکھوں نا امید بھی نہ رہوں

غالب کی وفات تک ہندوستان کا نہ صرف سیاسی بلکہ شعری منظرنامہ بھی زبردست طریقے سے تبدیل ہونا شروع ہو چکا تھا اور دبستانِ سر سید کے زیرِ اثر ادب برائے مقصد کی تحریک سے رومانویت و جمالیات کے عناصر بری طرح متاثر ہوئے ۔ اکبر الٰہ آبادی کے بعد علامہ اقبال نے ادب برائے مقصد کی تحریک کو آگے چلایا ، گو کہ جمالیات بالکل مفقود کبھی نہ ہوپائی۔اب جمالیات کا بیسویں صدی میں تشکیل پانے والا روپ ادب کے افق پر رونما ہو کر پکار رہا تھا:
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے ۔
——————

”جمالیات کیا ہے: مشرقی ادب سے نظائر“
(پانچواں حصہ)

معزّز رفقا! بیسویں صدی سے تاحال اردو نظم و نثر نے اپنے عروج کی طرف پیہم سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ اقبال نے اردو شاعری میں نئے اسلوب اور کئی نئے مضامین متعارف کرائے۔ خودی، مومن، شاہین، پرواز، گلِ لالہ اور عشق کی علامات کو بیشتر اسلامی تلمیحات کے مقدس جُزدان میں لپیٹ کر فضائے سخن کو معطّر کردیا۔ دیکھا جائے تو اقبال نے جمالیاتِ الٰہی/الوہی جمالیات کے موضوع کو ارتقا بخشا جسے کلاسیکی دور کے شعرا کے ہاں ہم تصوف/عشقِ حقیقی سے موسوم کرتے آئے ہیں۔
اس سے پہلے کہ اقبالی الوہی جمالیات پر بات کروں، یہ یاد رہے کہ اقبال نے ابتدائی دور میں روایتی جمالیات پر بھی کئی غضب کے شعر کہے:

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ جلد ہی اقبال کو اندرونی و بیرونی عوامل نے باور کرا دیا کہ :

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

اور رفتہ رفتہ اقبال کی شاعری میں فلسفے میں محجوب الوہی جمالیات کی جھلکیاں دکھائی دینے لگیں جن کا بامِ عروج بانگِ درا میں “ شکوہ “ اور “ جوابِ شکوہ” اور بعد ازاں بالِ جبریل اور ضربِ کلیم میں شامل ان نظموں کی شکل میں ہوا جن میں اقبال نے براہِ راست یا بالواسطہ خدا سے مکالمے کی شکل میں کیا:

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے
اقبال کی وفات کے ایام کے آس پاس آسمانِ اردو سخن پر فیض نامی ایک چمکتے ستارے کا ظہور تیزی سے ہونا شروع ہوگیا تھا۔فیض روایتی اور جدید تصورِ جمالیات کی ایک عظیم مثال ہے کہ اس نے روایتی عشقیہ مضامین کو بالکل نئے انداز میں بیان کرتے کرتے انھیں عصری سیاسی ، سماجی اور تاریخی موضوعات میں کامیابی سے ضم کیا۔ روایتی جمالیات میں فیض کی انفرادیت کچھ یوں ہے:
ہم پر تمھاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے

درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے!!!!!
تو فیض دل میں ستارے ابھرنے لگتے ہیں

نہ گئی تیری بےرخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے

نظم “ رقیب کے نام” میں رقیب سے حسنِ سلوک کی طرف اشارہ فیض کی جمالیات کا ہی خاصہ ہے۔

اس کے بعد فیض نے ایک شہرۂ آفاق نظم “ مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ” لکھ کر روایتی جمالیات کی عمارت پر ایک شاندار منزل تعمیر کرکے جہانِ ادب کو چونکا دیا۔ اس نظم کے عنوان کے علاوہ کچھ اور مصرعے بھی ایک جھنجھوڑنے والا پیغام دیتا نظر آتا ہے:

اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

میں فیض کی شاعری کے اس عنصر کیلیے “مزاحمتی جمالیات” کی اصطلاح پسند کروں گا کہ اس میں ماضی سے یکلخت کنارہ کشی نہ کرنے کی حسرت کے ساتھ ساتھ حال کے غیر عشقیہ حقیقی زندگی کے مسائل سے جڑے رہنے کی آرزو کا امتزاج فیض کی منفرد جمالیات کی پہچان ہے:

دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

گلیوں میں پھرا کرتے تھے دوچار دوانے
ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا

اس مزاحمتی جمالیات کا منفرد ترین رنگ یہ ہے:

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

فیض کے فوراً بعد احمد فراز، پروین شاکر، افتخار عارف اور پھر نوے کی دہائی سے ۲۰۱۹ تک شعرائے جمالیاتِ جدید کا اظہار کرنے والے شعرا کی یلغار سی ہوتی نظر آتی ہے۔ فراز نے جمالیات پر ایک امر رہنے والا شعر کہا:

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
سبھی سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری

فراز نے متعدد اشعار میں جدید جمالیتی رنگ ڈال کر اپنا لوہا منوایا:

یہ عالَم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے
یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے
اور
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا!!!!!!!!!!!!
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

اسی دور میں مصطفیٰ زیدی نے جمالیات میں خوب اظہار کیا

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز کو سمجھو
اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ

پروین شاکر کے ہاں نسائیت سے بھرپور جمالیات نے انھیں ایک منفرد مقام دلوایا جب انھوں نے ایسے شعر کہے:
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی!!!!!!!!!!!!!

نظموں میں بھی انکی انفرادیت قائم رہی :
گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اندر آیا تو دیکھا
شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں
رستہ دیکھنے والی آنکھیں
سارے شکوے بھلا چکی تھیں

محسن نقوی کی شاعری میں جمالیات بہت ابھر کر سامنے آتی ہے:

تمھیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

کتنے لہجے کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوعِ سخن جانتے ہیں

بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک جن بڑے ناموں نے جمالیاتِ جدید کا اظہار کیا ان میں سعود عثمانی، شاہین عباس، عباس تابش، شہزاد نیر، علی زریون، ندیم بھابھہ، زبیر قیصر ، رحمان حفیظ ، حمیدہ شاہین اور نسرین سید بہت نمایاں ہیں۔ کچھ چنیدہ اشعار پیش ہیں کیونکہ جدید تر جمالیات پر ایک الگ نشست درکار ہوگی:

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں
آتا جاتا آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں
شاہین عباس

سنہری دھوپ،ہری گھاس اور تری خوشبو
کہ جیسے تو ہے مرے پاس اور تری خوشبو
سعود عثمانی

بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں
اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی!!!!!!
عباس تابش

وہ کیمرے سے جھٹ مرے کمرے میں آگئی
اس خوش بدن نے آج بہت دور مار کی
شہزاد نیر

تری آنکھوں میں کیوں جھلکا نہیں رنگِ تمنّا
ترے سینے میں دل کیا رائیگاں رکھا ہوا ہے
رحمان حفیظ

گھر نے دیکھ لیا آتے پردیسی کو!!!!!!!!!!
کھل اٹھے دروازے، تالے پھول ہوئے
حمیدہ شاہین

اس شفق رو کی ضو میں آتے ہی
شام کا مرتبہ بحال ہوا!!!!!!!!!!!!
علی زریون

احباب! ان اشعار کا سب سے نمایاں جمالیاتی پہلو یہ ہے کہ ان میں تشبیہہ/استعارے کو بغیر حروفِ عطف و تشبیہہ برتا گیا ہے اور یہی جدید ترین جمالیات ہے۔
اختر شیرانی اور منیر نیازی دو بڑے نام ہیں جنکا تذکرہ قصداً نہیں کیا گیا کہ اختر شیرانی نے پہلی بار معشوق کو معشوقہ کے طور پر بیباکی سے شاعری میں برتا۔ منیر نیازی کی جمالیات بھی ایک الگ مضمون مانگتی ہے۔
کئی اور بڑے نام بھی گزشتہ پانچ دہائیوں میں نمایاں ہیں لیکن نشست کو بوجھل پن سے بچانے کی غرض سے انکا تذکرہ کسی اور دن کیلیے اٹھا رکھتے ہیں۔ بعینہِ اردو نثر میں امراؤ جان ادا، فردوسِ بریں اور یادوں کی بارات جیسے شہ پارے بھی عمداً شاملِ گفتگو نہ کیے کہ نثری جمالیات بھی ایک الگ اور وسیع موضوع ہے ۔
آپ کے ضبط و تحمل کا بہت شکریہ اور گیسوئے سخن کا خصوصی شکریہ کہ راقم کو اس موضوع پر لکھنے/بولنے کے قابل سمجھا۔

           =×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=

لیکچر کے اختتام پہ شرکاء کی طرف سے سوالات بھی کیے گئے، جن کے ڈاکٹر صاحب نے نہایت جچے تلے اور عمدہ جوابات عنایت فرمائے. ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :

سوال نمبر ☜ 01 : تو کیا یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ جمالیاتی قصیدہ غزل کی ابتدائ شکل تھی؟ (حیا غزل)

جواب : بالکل درست ہوگا. انسانی فطرت میں توصیف و تحقیر دونوں موجود ہوتے ہیں. جمالیات کی اساس توصیفی پہلو پر ہے


سوال نمبر ☜ 02 : جیسے کے ڈاکٹر نے لیکچر میں جمالیت کا مادہ حسن و َخوبصورتی کو قرار دیا ہے اس سے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا ہے
کیا حسن پرستی سے جمالیات پیدا ہوتی ہے (محمد فرحان)

جواب : جی! اگر حسن پرستی کو وسیع المعنٰی ترکیب کے طور پر لیا جائے تو آپ کا اخذ کردہ نکتہ بجا ہے
انسانی دماغ میں ایک حصہ ہمارے جذبات و جمالیات سے متعلق ہوتا ہے، اسے ہائپوتھیلیمس Hypothalamus کہتے ہیں۔ حسن کی تعریف/حسن پرستی کے خلیے وہیں ہوتے ہیں


سوال نمبر ☜ 03 : دماغ کا یہی حصہ جمالیات کو تخلیق کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت فراہم ہے یا دونوں میں سے ایک کام؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : بہت اہم سوال. ہائپو تھیلیمس حسیات سے متعلق ہے جبکہ تخلیقی عمل ”بالاتر مراکز“ Higher centres of brain میں تشکیل پاتا ہے اور اس وقت طبی تحقیق کا بہت بڑا موضوع ہے


سوال نمبر ☜ 04 : کیا تضمین بھی جمالیات سے ہی نسبت رکھتی ہے؟ (حیا غَزَل)

جواب : اہم سوال ہے.
تضمین کا تعلق بالواسطہ اور نسبتاً بُعد سے بنتا ہے. تضمین دراصل ایک تحریک /محرک کا نتیجہ ہوتی ہے


سوال نمبر ☜ 05 : جیسا کہ بعض جدت پسندوں کا کہنا ہے کہ اب لب و رخسار اور عارض و خَد کے قصے لرانے ہو چکے.. تو جمالیات کو انسانی خوبصورتی سے مقید کریں گے یا حسنِ بیان، حسنِ الفاظ، حسنِ بندش، حسنِ خیال بھی جمالیاتی مطالعے کے زمرے میں آ سکتے ہیں؟ (غلام مصطفیٰ دائم)

جواب : ان سوالوں کا شافی و مفصل جواب اگلی اقساط میں انشا اللہ آئے گا
فی الوقت ایک لفظ ذہن میں رکھیے”ارتقا“
وقت کے ساتھ ساتھ اظہارِ جمالیات سطحی لفاظی سے نکل کر ارفع تر اشکال میں ہوتا چلا گیا


سوال نمبر ☜ 06 : جیسے آپ نے بیان کیا کہ جمالیات کا باقاعدہ تفصلی و تحقیقی مواد ہمیں مغرب سے ملتا ہے. تو کیا اُردو ادب میں جمالیات اس سطح تک پہنچ سکی جہاں اہلِ مغرب کی جمالیات ہیں؟ (محمد فرحان)

جواب : اردو میں جمالیات بطور ایک مضمون کے محققین و ناقدین کے زیرِ مطالعہ ذرا دیر میں آئی، گو کہ جمالیات لذاتہِ اردو میں صدیوں سے رائج تھی


سوال نمبر ☜ 07 : اس حصے کو پڑھنے کے بعد پہلا تاثر یہ ابھرتا ہے کہ نسائی اور تانیثی ادب ہی میں جمالیاتی عناصر موجود ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا "جمالیات" کا لفظ کربلا کے مظالم، دریدہ عصمتوں، لرزیدہ عفتوں ،گزیدہ عصمتوں کے شکووں اور نوحوں میں نہیں پائی جا سکتی؟ کیا شعر یا نثر کا حسنِ اظہار بھی جمالیات کا موضوع ہو سکتا ہے؟ (غلام مصطفیٰ دائم)

جواب : یہ بھی ماشا اللہ اہم ترین سوالوں میں سے ہے. دراصل مرثیے کی شکل میں ہم المیاتی جمالیات کا ہی اظہار کر رہے ہوتے ہیں. اب وقت آگیا ہے کہ جمالیات کی وسیع تر درجہ بندی کی جائے.
المیاتی فکر اور منظر کا تعلق بھی دماغ کے اسی حصے سے ہے جو تخلیقی عمل کو تحریک دیتا ہے.
ضیا محی الدّین صاحب سے ایران کے دورے سے واپسی پر اسی موضوع پر ۲۰۰۵ میں گفتگو ہوئی تو انھوں نے ایک اعلٰی بات کی :
”سانحۂ کربلا میں ڈراما/ناٹک بناکر سٹیج پر پیش کرنے کے تمام لوازم موجود ہیں ، مسئلہ روایتی ملائیت کے ردّ عمل کا ہے“
مقتل : ایک عظیم موضوع ہے جس پر منظوم ڈراما لکھنا بھی ممکن ہے تاکہ مرثیے کی جہات میں اضافہ ہو. قدرت کی طرف سے آزمائش میں دیکھنے والی آنکھ کو حسن کا اک اور پہلو نظر آتا ہے. سبحان اللہ


سوال نمبر ☜ 08 : کیا جذبات اور جمالیات ایک ہیں؟؟ (عین عین عابد)

جواب : جمالیات جذبات کی ایک بڑی اور لطیف شاخ ہے.
جذبات کی اقسام متنوع ہیں:
غصہ، انتقام، نفرت ، حقارت، مایوسی (ابلیس کا لغوی مطلب) منفی جذبات
خوشی، لطافت، الفت، لگن، لگاؤ، تعریفِ حسن، اطمینانِ قلب (مومن کی ایک پہچان) کچھ مثبت جذبات کی مثالیں ہیں


سوال نمبر ☜ 09 : مذہبی واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے میں تو مذہبی جذبات آڑے آ جاتے ہیں۔ کیا اس حوالے سے لوک داستانوں اور علاقائی بہادروں اور سورماؤں کی دردناک شہادتوں پر کام ہوا ہے؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : ایران میں تو سیدنا یوسف علیہ السلام و دیگر انبیا پر فلمیں بنی ہیں. ہمارے ہاں ٹیپو سلطان، کرتار سنگھ، حیدر علی، زرقا (فلسطین کی ہیروئن) پر تمثیلی و فلمی کام ہوا ہے. انڈیا اس معاملے میں کافی آگے ہے


سوال نمبر ☜ 10 : سر جمالیات اور رومانوی تحریک کچھ مناسبت رکھتی ہیں؟ (سید نجم الحسن نجمی)

جواب : بہت گہرا تعلق ہے دونوں میں. لیکن رومانوی تحریک کا زیادہ قریبی تعلق یوٹوپیائی عناصر Utopian elements سے ہے. جبکہ جمالیات میں اس کے علاوہ بہت کچھ ہے. مثلاً مادی حقائق کا حسن، تجریدیت کا حسن وغیرہ


سوال نمبر ☜ 11 : یوٹوپیائی عناصر اور تجریدیت کی تعریف بتا دیں. (مجاہد فرساد)

جواب : یوٹوپیا : ایک فرضی دنیا جہاں صرف راحت و اطمینان.
تجریدی عناصر : غیر مادی Non substantial elements جیسے محسوسات وغیرہ.
نفسیات کی اصطلاح میں تجریدی فکر Abstract thinking کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان سوچ کر اشیا کی ہئیت، شکل و صورت وغیرہ اندازے سے بتائے.


سوال نمبر ☜ 12 : کیا حُسن کی تعریفی تحریر کو جمالیات کہتے ہیں؟ چاہے وہ نظم ہو یا نثر؟ (عین عین عابد)

جواب : تحریر اظہار کی آخری شکل ہے، ورنہ جب ہم حسیاتی سطح پر جمالیات کو صرف محسوس کرتے ہیں اور لطف کشید کرتے ہیں تو وہ بھی جمالیات ہی ہے لیکن اس کی ابتدائی ترین شکل. جیسے : اقرارٌ باللسان و تصدیقٌ بالقلب والا معاملہ ہے.


سوال نمبر ☜ 13 : میرے محدود خیال کے مطابق اگر جمالیات کی تلاش کیجائے تو داغ دہلوی کے کلام میں زیادہ ملے گی (امجد خیالی)

جواب : داغ، مومن، آتش، مصحفی. ان سب کے ہاں جمالیات کے ادنیٰ سے لے کر اعلٰی تر اظہار تک کے نمونے ہیں:
وصل کی شب پلنگ پر اپنے
مثل چیتے کے وہ مچلتے ہیں ( داغ)
فارسی میں چیتے کو پلنگ کہتے ہیں؛ اب اس شعر کی ذومعنویت دیکھیے


سوال نمبر ☜ 14 : خواتین کی مردانہ شاعری پر تعجب ہوتا ہے۔ لیکن اپنے ابتدائی دور کی خاتون شاعرات کے بارے میں بھی کہا کہ ان کے اشعار مردانہ تھے تو کیا اس کی ایک وجہ صنف مخالف کی شاعری کا مطالعہ بھی ہو سکتی ہے؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : جی ایک وجہ یہ بھی ہے. دوسری وجہ مردانہ غلبہ/مرد-غالب معاشرتی نظام. تیسری وجہ : ایک دبا دبا جذبۂ انتقام جو ایسی شاعری پر منتج ہوا


سوال نمبر ☜ 15 : صوفیانہ شاعری کا ایک بڑا حصہ بھی جو مرد حضرات کے لکھی ہوئی ہے لیکن انھوں نے اپنے لیے تانیث کا صیغہ استعمال کیا ہے اس کی کیا وجہ ؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : کسی حد تک اسکی وجہ قسطِ مذکور میں موجود ہے
وجہ وہی :
رانجھا رانجھا آکھدیو نی میں آپے رانجھا ہوئی
ان معدودے صوفیا نے نسائیت کی ترجمانی کی
جیسے امیر خسرو نے پہیلیاں، دوہے، شادی کے وہ گیت لکھے جو خواتین سے ہی منسوب ہیں، سو لامحالہ اس میں تانیثی اظہار ہونا تھا
پھر ایک وجہ (جسکی معکوس صورت اوپر تحریر کی) یہ بھی کہ خواتین کی طرف سے مکمل خاموشی کی تلافی مقصود تھی. روایتی مشرقی شرم و حیا، لڑکی کی خاموشی وغیرہ


سوال نمبر ☜ 16 : جمالیات کی حس، ہر انسان کی دوسرے سے قوی یا کمزور ہو سکتی ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی انسان میں یہ حس موجود ہی نہ ہو؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : جی بالکل صفر ہونا تو ناممکن ہے لیکن اسکا بری طرح دبا ہوا ہونا مادہ پرست معاشروں میں عام ہے


سوال نمبر ☜ 17 : سر آپ نے کہا کہ کربلا کو ڈرامائی شکل دینے میں روایتی ملائیت آڑے آتی ہے. تو کیا ایسا کرنے سے یعنی ان کی قربانیوں کو ڈرامے کی شکل دینے سے اُن معزز ہستیوں کی توہین نہیں ہوگی؟ یا کیا ہمارا دین اِس بات کی اجازت دیتا ہے؟ (حفصہ کنول)

جواب : میرے خیال میں اگر چوٹی کے علما کو یکجا کرکے ان سے اجتہادی/اجماعی رائے لی جائے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے
مثال:
ایک موبائل فون جس میں پورا قرآن محفوظ ہو اسے ساتھ لیکر بیت الخلا میں جانا جائز ہے
دلیل: حافظِ قرآن کے سینے میں کلامِ پاک محفوظ ہوتا ہے اور وہ بیت الخلا جا سکتا ہے
کچھ اس طرح سے گفتگو ممکن ہے.


سوال نمبر ☜ 18 : جمالیاتی حس انسان کے روز مرہ معمولات پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : ہر آنے والا دور نئے مسائل لاکر ذہنی دباؤ میں اضافے کی صورتیں پیدا کر رہا ہے. اس دباؤ سے تعامل کی دو ممکنہ صورتیں ہیں:
ایک تو فراریت، دوسرا جمالیاتی کیتھارسس


سوال نمبر ☜ 19 : سر میر کے ہاں شعری جمالیات کرب کی آمیزش میں ہیں اس کی بنیادی وجہ کسے کہہ سکتے ہیں؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : اس کی بنیادی وجہ شاید شاعر کی زندگی کے حالات ہیں. میر نے زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں.
بڑی حد تک ایسا ہی ہے. پھر یہ دور مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور بھی تھا اور دلّی ہی فرنگیوں کا سب سے بڑا ہدف تھا.
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں یادگار
پھر میر کا اپنی خالہ زاد سے ناکام عشق، انکا اپنے خالو کے ہاتھوں قید رہنا ( جس دور میں انھوں نے مثنوی اژدر نامہ لکھی ) وغیرہ.


سوال نمبر ☜ 20 : جمالیات ایک علم ہے یا فَن یا کچھ اور؟؟
نیز جمالیات کو ایک عنصر کہ شکل میں متشکل کریں تو اس کے اجزاء کیا کیا ہو سکتے ہیں؟ (غلام مصطفیٰ دائم)

جواب : جمالیت فنونِ لطیفہ کی ایک بڑی شاخ ہے، پہلے اسے فلسفے تک محدود رکھا گیا تھا. جمالیات کے اجزا یہ ہیں:
محسوسات/حسیات
مشاہدہ
ادراک
اور اظہار


سوال نمبر ☜ 21 : انگریزی حکومت اردو ادب پر کسی لحاظ سے اثر انداز ہوئی؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : کئی لحاظ سے. مثلاً :
مزاحمتی ادب کی بنیاد
غالب کی شاعری اور خطوط میں طنز کا عنصر
قنوطیت آمیز شاعری
پھر دبستانِ سر سید کا مصالحت آمیز (اور قدرے معذرت خواہانہ) اصلاحی تحریکی رویہ جس کے رد عمل میں اکبر الٰہ آبادی اور علمائے دیوبند کی مخالفت:
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی (اکبر الہ آبادی)


سوال نمبر ☜ 22 : جمالیاتی تناظُر میں آپ نے دلی کی ادبی فضا کو لکھنؤ کی ادبی فضا پر فوقیت دی ہے... کیا لکھنؤ میں محاورۂ عام کا تتبع، تخیلاتی بانگ، نزاکت آمیزیاں، نکتہ سنجیاں تو لکھنؤ کے ادب میں جس خوب صورتی سے پائی جاتی ہیں، دلی اس کے عشرِ عشیر سے بھی تہی دست ہے.
آپ کیوں کر دلی کو جمالیاتی تناظر میں ایک مخصوص افق پر دیکھتے ہیں؟ (غلام مصطفیٰ دائم)

جواب : لکھنئو اخلاقی طور پر انحطاط پذیری کا شکار تھا
نوابوں اور طوائفوں کی فضا (شطرنج کے کھلاڑی : افسانہ)
پھر ایک شعوری مشکل پسندی کا عنصر:
فسانۂ عجائب کی اردو دیکھیے:
”لعبتانِ لندن و چین۔۔۔۔“
دلی میں قصہ چہار درویش اور پھر بقول خواجہ نظامی کے ”کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی اردو“


سوال نمبر ☜ 23 : جمالیات کو اردو شاعری میں کتنے ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ؟ (سید نجم الحسن نجمی)

جواب : اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ کے ادوار کے تقریباً مساوی ہی ادوار جمالیات کے بنیں گے


سوال نمبر ☜ 24 : آزادی کے بعد اردو ادب پاکستان میں اس طور پنپ نہیں پایا جیسا کہ ہندوستان میں. اس کی کیا وجہ بیان کی جاتی ہے؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : سیاسی عدم استحکام، مذہبی جماعتوں کا دباؤ، سانحۂ مشرقی پاکستان پر مجرمانہ خاموشی. یہ بڑی وجوہات ہیں
قرات العین حیدر، حبیب جالب ، منٹو وغیرہ سے روا رکھا گیا سلوک
پھر ضیا الحق کے دور سے فکری ارتقائے معکوس کا عمل
پھر حکومتی اعزازات کی رسم اور اس سے پیدا شدہ شکوک و اعتراضات
لکھاری کا جنس برائے فروخت ہونے کا رویہ( گو یہ رویہ زیادہ صحافتی ادب میں رہا)


سوال نمبر ☜ 25 : اقبال کے تذکرے سے ایک بات ذہن میں آگئی کے بچوں کا ادب نظم ونثر آج کل بے حد انحطاط کا شکار ہے. اس کی کیا وجوہات ہیں؟ (چوہدری شہزاد کھرل)

جواب : اچھا سوال ہے. اقبال، صوفی تبسم، قیوم نظر سمیت ابتدا ہی سے اس پر لکھنے والے کم کم رہے ہیں.
ایک بڑی وجہ تو مصنف-پبلشر کا غیرصحت مندانہ تعلق جو مغرب کے بالکل برعکس ہے.
وہاں ہیری پوٹر لکھنے والی راتوں رات امیر بن جاتی ہے. جبکہ یہاں کی صورتحال آپ کے سامنے ہے. پھر سائنس اور سائنس فکشن دونو پر مغربی اجارہ داری. سو جب تک طلسمِ ہوشربا اور داستانِ امیر حمزہ کا زمانہ رہا، کم از کم نثری ادب میں کچھ زور رہا. پھر :
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
اردو پر انگریزی کا اثر اتنا پڑنے لگ گیا کہ اردو میں بچوں کے لیے لکھنے والوں کو اس صنف میں کشش کم محسوس ہونے لگی.
بہرحال یہ ایک اہم شعبہ ہے اور اس پر ہمیں مل کر کاوش کرنی چاہئیے. بچوں کیلیے سائی فائی کے توسل سے اخلاقی کہانیاں اردو میں اب بھی لکھی جا سکتی ہیں
بچوں کیلیے پہیلیاں، لوریاں، گیت ( نرسری رائمز کی طرز پر) اب بھی لکھیں تو اچھا ہوگا


سوال نمبر ☜ 26 : جمالیات کو عام طور پر خوبصورتی یا شاید نزاکت سے منسلک کیا جاتا ہے۔ جن کے معیار کہنے، سننے اور پڑھنے والے کی سوچ اور احساسات کی بنیاد پر متعین کیے جاسکتے ہونگے۔ کیا جمالیات کا مطلب ' توازنیا تناسب' نہیں؟ اگر کرختگی اور بدصورتی اپنی پوری خصوصیات کے ساتھ سامنے والے کے احساسات کو متاثر کررہی ہے تو کیا جمالیات سے بالاتر ہے؟ (نا معلوم)

جواب :
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انھی اجزا کا پریشاں ہونا
حسنِ تناسب ہی موسیقی ، شاعری اور جمالیات کی اساس ہے۔ شعری فہم رکھنے والا بغیر عروضی علم کے اپنے اندر وہ آہنگ رکھتا ہے کہ بے وزنی فوراً اسے کھٹکتی ہے
سو یہی صورتحال جمالیات کی ہے
اگر بدہئیتی اکراہ پیدا کرتی ہے تو خوبصورتی جمالیاتی حس بیدار کرتی ہے. جیسے رقص کو کسی نے اعضا کی شاعری کہا، ویسے ہی میرے نزدیک شاعری الفاظ کا رقص ہے.


سوال نمبر ☜ 27 : آج کل بچے کیا اس طرح کی کہانیاں سنتے یا پڑھتے ہیں؟ جبکہ ہم کمپیوٹر ایج میں بیٹھے ہیں (رعنا حسین چندا)

جواب : جی! اسی لیے میں نے سائی فائی کا ذکر کیا.
مغرب کے بچے اگر طلسمِ ہوشربا کا انگریزی قالب پڑھ کر محظوظ ہوسکتے ہیں تو ہماری نسل کیوں نہیں. پھر ہماری فلم انڈسٹری بھی رو بہ انحطاط ہے جبکہ وہاں ایک بہت بڑی صنعت.
میں نے لندن موٹر وے پر ہیری پوٹر سٹوڈیو دیکھا تو بہت خوشگوار حیرت ہوئی: وہاں اس سیریز میں کام کرنے والے بچوں کی ہوم ورک کی کاپیاں تک محفوظ ہیں جن پر وہ سٹوڈیو میں ہی فارغ اوقات میں کام کیا کرتے تھے:
شوق ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا


سوال نمبر ☜ 28 : جزاک اللہ !! جیسا کہ آپ نے جواب بیان فرمایا کہ خوبصورتی ، جمالیاتی حس بیدار کرتی ہے۔
جناب محترم! کیا بدصورتی کو سمجھنا اور محسوس کرنا جمالیاتی حس نہیں ہے؟ (نا معلوم)

جواب : اس پر المیاتی جمالیات کے حوالے سے اسی لڑی میں گفتگو ہوچکی. بدصورتی وغیرہ سے جو کراہت/ہول/بدمزگی پیدا ہوتی ہے اس کیلیے منفی جمالیات کی اصطلاح کا استعمال شاید جائز ہو


سوال نمبر ☜ 29 : پھر ان تخلیقات کو جمالیاتی تخلیقات کا مرتبہ نہیں ملے گا جو تجریدی آرٹ کے معنوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ ڈراوئینی کہانیاں لکھتے ہیں، خون آلود جذبات کا اظہار کرتے ہیں (نا معلوم)

جواب : آپ سے اتفاق ہے. اسے خوف و دہشت وغیرہ کے زمرے میں رکھنا بہتر ہوگا ورنہ خلطِ مبحث کا اندیشہ ہے.


سوال نمبر ☜ 30 : گویا یہ جمالیاتی بے حسی ہے؟ (نا معلوم)

جواب : نہیں. بلکہ اسے ضدِ جمالیات کہنا بہتر ہوگا

          =×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=

لیکچر کے اختتام پہ انتظامیہ کی جانب سے بایں الفاظ شکریہ ادا کیا گیا :

گیسوئے سخن کی انتظامیہ محترم المقام ڈاکٹر افتخارالحق صاحب کی نہایت درجہ شکر گزار ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہماری گزارش پہ ہمیں اپنے علمی سمندر سے سیراب ہونے کا موقع فراہم کیا.

جمالیات کے موضوع پر آپ کی اس مبسوط اور مفصل تحریر سے بہت سے راز منکشف ہوئے اور اس اہم عنوان کے تحت آپ نے ہمیں اپنے اپنے علمی سرمائے سے بہرۂ وافر عطا کیا. آپ کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ آئندہ بھی ہماری علمی سرپرستی کرتے ہوئے گاہے بگاہے ہمیں اپنے علمی فیضان سے منور کرتے رہیں گے.

انتظامیہ کی جانب سے آپ کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام ممبران کی جانب سے بھی سپاسِ محبت اور اور نیقزِ عقیدت قبول فرمائیں. جمالیات کے تحت حزنیہ جمالیات، تخیلاتی جمالیات، موضوعاتی جمالیات، زندانی جمالیات، معشرتی جمالیات، اور اقبال کے حوالے سے الوہی جمالیات سے دبیز پردے کشا ہوئے. یقینا واٹس ایپ کی دنیا میں یہ پہلا اور منفرد لیکچر تھا جو اس موضوع پر منعقد ہوا. یہ ہماری انفرادیت کے ساتھ ساتھ ہماری خوش قسمتی بھی ہے کہ ہمیں ڈاکٹر افتخار الحق صاحب جیسی سنجیدہ خو، نرم طبیعت اور تبحرِ علمی رکھنے والی شخصیت میسر ہوئی. اس طرح ہم اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں اور بارِ دگر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے مہمانوں کی آمد ورفت کے دوران بھی ہمیں اپنا قیمتی وقت عنایت کئے رکھا. اس دعا کے ساتھ آج کا یہ سگمنٹ اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ہمارا پڑھنا اور ڈاکٹر صاحب کا ہمیں اپنے علمی سمندر سے سیراب کرنا ہمارے لیے مفید ثابت ہو اور ہم اسی طرح بامقصد اور معیاری پروگرام کرتے رہیں.
سب دوستوں کا شکریہ. اللہ حافظ

آخر میں ڈاکٹر صاحب سے اس غزل کی درخواست کرتے ہیں جس میں جمالیاتی عنصر کی جلوہ ریزیاں موجود ہیں

         =×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=

ڈاکٹر صاحب نے ہماری گزارش پہ اپنی ایک غزل عنایت فرمائی، ملاحظہ فرمائیں :

 نکھرے یہ شعرِ تن جو زحافات کیجیے!
قارونِ حسن ! صدقہ و خیرات کیجیے!

ٹوٹے کسی طرح یہ طلسمِ سکوتِ لب
مجھ سے نہیں تو خود سے کوئی بات کیجیے

باقی بدن بھی ان کا نکھر جائے کیا خبر
تبدیل پہلے صورتِ حالات کیجیے!

اب دھڑکنیں بھی کرتی ہیں دل سے یہ التجا
کچھ اہتمامِ دافعِ آفات کیجیے!

امکان ہے کہ جوش میں آئیں گی رحمتیں
شکوہ اگر بشکلِ مناجات کیجیے!

مہرہ بنا کے آپ ہی لائے بساط پر
شہ مات ہو رہا ہوں کرامات کیجیے

تعبیر ہوں، سراب کی تجسیم آپ ہوں
دشتِ خیال و خواب پہ برسات کیجیے!

جی چاہتا ہے خامۂ لب سے پسِ قبا
تحریر حسرتوں کے مقالات کیجیے!

تقسیمِ کار عشق میں کچھ اس طرح کی ہو
تکمیل میں کروں گا شروعات کیجیے!

         =×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=

اور یوں یہ علمی محفل اپنے اختتام کو پہنچی
الحمد للہ علی کل حال

Thursday, 21 March 2019

میری ایک غَزَل - برائے تنقید

ﺭُﺥِ ﺭﻭﺷﻦ ﻣُﺼﻠّﺎﺋﮯ سُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﮑﺮ تو ﺑُﺮﮨﺎﻥِ نموﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﻣَﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺍِﺭﺗِﻘﺎﺀ ﻛﺎ ﮨﻮﮞ ﺗِﺮﮮ ﺯِﯾﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﻗﺎﺗِﻞِ ﺻَﺪ ﺍﻧﺠُﻢِ ﺗﺎﺑﺎﮞ وُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﺗﻬﭙﻜﻴﺎﮞ ﺩﻳﺘﺎ ﮨُﻮﺍ ﻭﮦ ﮔﻮﺵِ ﮨﺮ ذى جان ﭘﺮ
ﻧﯿّﺮِ اعظم ﻛﺎ ﮨﺮﮐﺎﺭﮦ ، ﺳﺮﻭﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﮨﮯ ﻧِـﮩﺎﮞ ﺗﺨﺮﻳﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﻠُﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﻌﻤِﯿﺮ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺵِ ﺷﺐ ﭘﺮ ، ﭘﺮﺩﻩِ ﭼﺮﺥِ ﻛﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﮨﮯ ﺯﯾﺮِ ﺑﺎﺭِ ﻣِﻨّﺖِ ﺑﺎﺩِ ﻧﺴﻴﻢ
ﮨﺮ ﮔﻞِ ﺧَﻨﺪﺍﮞ ، ﮐﮧ ﻣﺮﮨُﻮﻥِ ﻛﺸﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﺗﻴﺮﮔــﺊِ ﻛُﻨﺞِ ﺯِﻧﺪﺍﻥِ ﻏُﻼﻣﻰ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈَﺭ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﻏﺎﺯِ ﮨﻨﮕﺎﻡِ ﺧﻠﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ﮨﮯ ﻣﻘﺪَّﺭ ﮨﺮ ﻋُﺮﻭﺝِ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﻰ ﻛﻮ زوال
ﻟﻮﺡِ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭَﻗَﻢ ﺩﺍﺋﻢ " ﻧﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

غلام مصطفىٰ ﺩﺍﺋِﻢ ﺍﻋﻮﺍﻥ

---------------

اس غزل پر مختلف فورمز میں جو جو تنقیدی تبصرے ہوئے، ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں :



گفتگو : ناہید ورک

میں نے اس غزل کو سمجھے کے لیے یہاں اشعار کو صرف کھولنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ اشعار پر تفصیلًا بات کے لیے مزید وقت درکار ہے اور یقیناً دوستوں نے اس پر سیر حاصل گفتگو کی بھی ہو گی۔

ﻭﻩ ﺭُﺥِ ﺭﻭﺷﻦ ﻣُﺼﻠّﺎﺋﮯ سُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﮑﺮ تو ﺑُﺮﮨﺎﻥِ نموﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

صبح کے سجدے کے لیے (محبوب کے رُخِ روشن) روشن چہرے کو نہ صرف مصلّا کہا جا رہا ہے بلکہ محبوب کے مکمل پیکر کو صبح ہونے کی وجہ و دلیل و ثبوت بھی مانا جا رہا ہے۔

ﻣَﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺍِﺭﺗِﻘﺎﺀ ﻛﺎ ﮨﻮﮞ ﺗِﺮﮮ ﺯِﯾﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﻗﺎﺗِﻞِ ﺻَﺪ ﺍﻧﺠُﻢِ ﺗﺎﺑﺎﮞ وُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

اپنی راہ استوار کرنے کے لیے کسی کو زینہ بنانا پڑتا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے کسی کو پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔ اُسی طرح جیسے روشن ستاروں کا غروب ہونا صبح کے وجود کے لیے ضروری ہے یعنی صبح کے وجود کو سینکڑوں روشن ستاروں کا قاتل ٹھہرایا گیا ہے، رات گئی تو صبح ہوئی۔ (باقی ستارے ماند ہوئے تو صبح وجود میں آئی)

ﺗﻬﭙﻜﻴﺎﮞ ﺩﻳﺘﺎ ﮨُﻮﺍ ﻭﮦ ﮔﻮﺵِ ﮨﺮ ذى جان ﭘﺮ
ﻧﯿّﺮِ اعظم ﻛﺎ ﮨﺮﮐﺎﺭﮦ ، ﺳﺮﻭﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

ہر ذی نفس کے کانوں میں رس گھولتی ہوئی ایک پیام بر کی صدا کو صبح کا سنگیت و نغمہ کہا گیا ہے۔ (اذانِ فجر ہو سکتی ہے)

ﮨﮯ ﻧِـﮩﺎﮞ ﺗﺨﺮﻳﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﻠُﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﻌﻤِﯿﺮ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺵِ ﺷﺐ ﭘﺮ ، ﭘﺮﺩﻩِ ﭼﺮﺥِ ﻛﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
تخریب اور تعمیر، یعنی تخریب کاری کا وجود اک نئی تعمیر کا معرضِ وجود ہے۔ (کبودِ صبح یعنی نیلاہٹ بھری صبح)
صبح کا نمودار ہونا تعمیر سے جوڑا گیا اور تخریب رات کے اندھیرے سے یا پھر رات سے منسلک کر دی گئی ہے۔
(تراکیب پر ذہن قدرے اُلجھ سکتا ہے)

ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﮨﮯ ﺯﯾﺮِ ﺑﺎﺭِ ﻣِﻨّﺖِ ﺑﺎﺩِ ﻧﺴﻴﻢ
ﮨﺮ ﮔﻞِ ﺧَﻨﺪﺍﮞ ، ﮐﮧ ﻣﺮﮨُﻮﻥِ ﻛﺸﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ہر شخص بادِ نسیم کے جھونکوں کا احسانمند ہے(زیرِ بار) اور ہر کِھلتا ہُوا پھول صبح کی مرہونِ منت ہے۔
ﺗﻴﺮﮔــﺊِ ﻛُﻨﺞِ ﺯِﻧﺪﺍﻥِ ﻏُﻼﻣﻰ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈَﺭ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﻏﺎﺯِ ﮨﻨﮕﺎﻡِ ﺧﻠﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
زندان (قفس) سے اب کیا گھبرانا، کہ تاریکی گئی اورصبح کی آمد آمد ہے۔

ﮨﮯ ﻣﻘﺪَّﺭ ﮨﺮ ﻋُﺮﻭﺝِ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﻰ ﻛﻮ زوال
ﻟﻮﺡِ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭَﻗَﻢ (فعلن) " ﻧﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
یعنی یہ کہا گیا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔


-------

گفتگو : عابد علی

غزل پڑھتے ہی پہلا تاثر یہ ملتا ہے کہ شاعر علامہ اقبال کی شاعری اور اسلوب سے کافی متاثر ہیں، استدلال کا جو انداز علامہ صاحب اپنی نظموں میں استعمال کرتے ہیں وہی اس غزل میں نظر آیاـ قافیے کا ردیف کے ساتھ ترکیبی صورت میں آنا بھی خوش کن ہے البتہ شعری کیفیت روحانیت سے خالی ہے ایک اور مسئلہ جو مجھے اس غزل میں نظر آیا وہ تخیل کی اونچ نیچ ہے مطلب غزل کے اکثر امصارع منفرد تخیلاتی کیفیت رکھتے ہیں مگر دوسرے مصرعے اس سطح کے نہیں ہیں

غزل کا مطلع اپنی کیفیت میں حمدیہ ہے، رخِ روشن کو صبح کے سجدوں کے مصلے سے تشبیہ دینا بہت خوبصورت ہے لیکن تشبیہ کے باوجود لفظ "وہ" کا دونوں مصرعوں میں استعمال شعر کو کمزور بنا رہا ہے ـ
دوسرے شعر میں وجود ِ صبح کو چمکتے ستاروں کا قاتل قرار دینا منفی تاثر دے رہاـ ستارے معکوس ہیں اور ہمیشہ مثبت معنوں میں استعمال ہوئے ہیں ـ
عروج ِ آدم ِخاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں " میں بھی ایک مثبت تقابلی نکتہ موجود ہے
تیسرا شعر سمجھ نہیں آیا
چوتھے شعر کے مصرعہ ِ اولی میں" اک " اضافی ہے جو صرف وزن کی کمی پورا کر رہا ہے." اک پہلو" تو ہوتا ہے" اک تعمیر" ذرا عجیب لگاـ باقی شعر کا مضمون بھی پرانا ہے

" ہر نفس ہے زیرِ بارِ منتِ بارِ نسیم

انتہائی خوبصورت اور تخلیقی مصرعہ ہے لیکن مصرعہ ِ ثانی انصاف نہیں کر سکا اور پہلے مصرعے کے ہم پلہ بھی نہیں

چھٹا اور ساتواں شعر اپنے معنی و مفہوم میں واضح ہیں اور غزل کے ماحول کے عین مطابق بھی مگر بات وہی ہے کہ مضامین پرانے ہیں اور ان کا برتاؤ بھی ـ


--------

گفتگو : احتشام اطہر نعیمی


ﻭﻩ ﺭُﺥِ ﺭﻭﺷﻦ ﻣُﺼﻠّﺎﺋﮯ سُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﮑﺮ تو ﺑُﺮﮨﺎﻥِ نموﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اولیٰ مصرع تو کمال ہے۔۔ لفظ "بلکہ"، "ناصرف" کے بغیر اددھورا معلوم ہوتا ہے۔۔ جب اولیٰ میں صبح کو رخ کے ساتھ خاص کردیا گیا ہے تو ثانی میں پیکر کہنا عجیب لگ رہا ہے۔۔ ثانی میں پیکر کہہ دینے سے اولیٰ میں رخ کی تخصیص حشو ہوگئی۔۔کچھ احباب نے مصلائے سجود پر کلام کیا ہے حالانکہ اس میں کوئی قباحت نہیں۔۔کیونکہ اس سے سجدہ کرنے کی جگہ مراد لینا بعید از عقل نہیں۔۔*

ﻣَﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺍِﺭﺗِﻘﺎﺀ ﻛﺎ ﮨﻮﮞ ﺗِﺮﮮ ﺯِﯾﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﻗﺎﺗِﻞِ ﺻَﺪ ﺍﻧﺠُﻢِ ﺗﺎﺑﺎﮞ وُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اولیٰ میں ق ک کی تکرار نے فصاحت کی جان لے لی اور الفاظ کی نشست سے تعقید در آئی۔۔ مصرعوں میں ربط سمجھنے سے میں خود کو قاصر پارہا ہوں۔۔ کیونکہ ستارے صبح کی ارتقاء کا زینہ نہیں ہوتے، ستاروں کا کام الگ ہے اور صبح کا الگ۔۔ یہاں موم کے پگھلنے اور شمع کے جلنے کی مثال خوب ہوتی۔۔*

ﺗﻬﭙﻜﻴﺎﮞ ﺩﻳﺘﺎ ﮨُﻮﺍ ﻭﮦ ﮔﻮﺵِ ﮨﺮ ذى جان ﭘﺮ
ﻧﯿّﺮِ اعظم ﻛﺎ ﮨﺮﮐﺎﺭﮦ ، ﺳﺮﻭﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*لفظ ہرکارہ نے شعر کو بوجھل کردیا۔۔ دوسرے نیر بجائے خود آیک مبالغہ ہے اس لئے پھر اسے اعظم کہنا اسے حقیقت سے دور کرتا ہوا معلوم ہورہا ہے۔۔ اور یہاں تھپکی دینا قطعاً پیوست نہیں کیونکہ تھپکی دینا کا عام معنی ہے سلانا جبکہ نیر اعظم کا پیغامبر لوگوں کو جگانے کا کام کرتا ہے۔۔ اگر اولیٰ میں خوابِ غفلت سے جگانے یا جھنجھوڑنے کی بات کی گئی ہوتی تو بات معقول ہوتی۔۔*

ﮨﮯ ﻧِـﮩﺎﮞ ﺗﺨﺮﻳﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﻠُﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﻌﻤِﯿﺮ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺵِ ﺷﺐ ﭘﺮ ، ﭘﺮﺩﻩِ ﭼﺮﺥِ ﻛﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اولیٰ مصرع تو شاہکار ہے۔۔ لیکن ثانی نے شعر کو گنجلک کردیا۔۔ رات کے کاندھے پر صبح کا نیلا پردہ ہونا انتہائی بے لطف لگ رہا ہے اور نہ اس کا کوئی خاطرخواہ معنی مل رہا ہے۔۔ اگر تاویلات کو بالائے طاق رکھ کردیکھا جائے تو ثانی بے جان ہے۔۔ بس شعر برائے شعر۔۔*

ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﮨﮯ ﺯﯾﺮِ ﺑﺎﺭِ ﻣِﻨّﺖِ ﺑﺎﺩِ ﻧﺴﻴﻢ
ﮨﺮ ﮔﻞِ ﺧَﻨﺪﺍﮞ ، ﮐﮧ ﻣﺮﮨُﻮﻥِ ﻛﺸﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اس شعر میں قافیہ داد کا حقدار ہے۔۔ مگر دعوے اور دلیل میں کوئی۔تلازمہ نظر نہیں آرہا ہے۔۔ اسے یوں دیکھئے کہ بادِ نسیم صبح کی ٹھنڈی ہوا کو کہتے ہیں مگر سانس کی آمد و رفت تو دن بھر جاری رہتی ہے حتیٰ کہ رات میں بھی۔۔ تو پھر اسے صبح کے ساتھ خاص کرنا صرف اور صرف ردیف کی مجبوری ہے۔۔*
*اگر "نفس" کو "چمن" کرلیا جائے تو ممکن ہے بات بن جائے۔۔۔*

ﺗﻴﺮﮔــﺊِ ﻛُﻨﺞِ ﺯِﻧﺪﺍﻥِ ﻏُﻼﻣﻰ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈَﺭ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﻏﺎﺯِ ﮨﻨﮕﺎﻡِ ﺧﻠﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*زندان سے پہلے کنج کہکر کنج کو حشو کردیا گیا۔۔ پھر زندان کے بعد غلامی کہنے کی کوئی بہت ضرورت نہیں ہے۔۔ کل ملا کر غلامی کی قید کے گوشے کے اندھیرے سے نہ ڈر۔۔ چہ معنی۔۔؟؟ صرف قید کے اندھیرے سے نہ ڈر کہنا کافی تھا۔۔ دوسرے یہ کہ ردیف کی مجبوری کے چلتے ثانی تعقید کا شکار ہوگیا۔۔*

ﮨﮯ ﻣﻘﺪَّﺭ ﮨﺮ ﻋُﺮﻭﺝِ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﻰ ﻛﻮ زوال
ﻟﻮﺡِ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭَﻗَﻢ (فعلن) " ﻧﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اولیٰ میں "کو" کی جگہ "کا" کا محل ہے۔۔ دوسرے یہ کہ لوحِ ہستی کہنا کوئی بھلا نہیں لگا۔۔ اگر ہستی کی جگہ "قدرت" ہوتا تو بات بنتی۔۔*

*مجموعی طور پر ایک اہم غزل ہے۔۔ ہر مضمون خوب ہے اسلوب بھی روایتی ہے۔۔ انداز بھی قابلِ داد ہے۔۔ بس الفاظ کی نشست اور انتخاب نے غزل کو نظر ثانی کا متقاضی کردیا۔۔ میں نے بس فنی نکات ہر گفتگو کی ہے۔۔ ورنہ غزل خوب تر ہے۔۔۔ اس جدت پسند دور میں روایات کو برقرار رکھنا ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔۔ شاعر کو خوب خوب خوب خوب مبارکباد۔۔۔*

*الله کرے زورِ قلم اور زیادہ *

--------


گفتگو : راحل بخاری

ﻭﻩ ﺭُﺥِ ﺭﻭﺷﻦ ﻣُﺼﻠّﺎﺋﮯ سُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﮑﺮ تو ﺑُﺮﮨﺎﻥِ نموﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*مطلع اچھا ہے، وہ رخ روشن اتنا اجلا ہے جیسے صبح کی ٹھنڈی میٹھی روشنی نے اس پر سجدہ کیا ہو اور اپنا چھاپ چھوڑ دیا ہو بلکہ وہ مکمل پیکر ہی صبح کا تراشا ہوا لگتا ہے*
*مصلہ کے ساتھ جو اضافت بنائی گئی اس میں الف زائد لگ رہا ہے اور لطف نہیں دے رہا*
*برہان نمود صبح کی ترکیب کے لئے الگ سے داد*

ﻣَﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺍِﺭﺗِﻘﺎﺀ ﻛﺎ ﮨﻮﮞ ﺗِﺮﮮ ﺯِﯾﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﻗﺎﺗِﻞِ ﺻَﺪ ﺍﻧﺠُﻢِ ﺗﺎﺑﺎﮞ وُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*دیکھیے اگر آپ مجھے روندھ کر ہی ترقی کرسکتے ہیں تو کوئی بات نہیں کیونکہ صبح تب ہوتی ہے جب سینکڑوں ستارے لوٹ لئے جاتے ہیں*

*یہاں شعر میں مکمل بیانیہ حاضر سے منسلک ہے. زینہ اپنی جگہ رہ جاتا ہے چڑھنے والا چڑھ جاتا ہے.*

*یہ مفہوم پہلے بھی برتا جا چکا ہے، کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا*

ﺗﻬﭙﻜﻴﺎﮞ ﺩﻳﺘﺎ ﮨُﻮﺍ ﻭﮦ ﮔﻮﺵِ ﮨﺮ ذى جان ﭘﺮ
ﻧﯿّﺮِ اعظم ﻛﺎ ﮨﺮﮐﺎﺭﮦ ، ﺳﺮﻭﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*شعر کا پہلا جبرا کہا گیا ہے دوسرا مصرع مکمل ہے. ہرکارہ صداکار کو کہا گیا ہے اور صبح سورج کا اعلان ہے*

شعر میں ایک.سادہ بیانیہ ہے اور کوئی بڑی بات نہیں.کی گئی

ﮨﮯ ﻧِـﮩﺎﮞ ﺗﺨﺮﻳﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﻠُﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﻌﻤِﯿﺮ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺵِ ﺷﺐ ﭘﺮ ، ﭘﺮﺩﻩِ ﭼﺮﺥِ ﻛﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*تخریب اور تعمیر کا بیانیہ شب اور صبح کے تلازمے سے جسٹیفائی نہیں ہو رہا. رات کسی صورت تخریب کا استعارہ نہیں اور نہ ہی صبح تعمیر کا*
*اسی طرح دوسرا مصرع اپنی بنت میں معکوس ہے. دوش شب پر آسمان کی ردا نہیں بلکہ آسمان پر شب کی چادر چڑھتی ہے*

*پردہ چرخ کبود صبح کی ترکیب درست نہیں ہے*

ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﮨﮯ ﺯﯾﺮِ ﺑﺎﺭِ ﻣِﻨّﺖِ ﺑﺎﺩِ ﻧﺴﻴﻢ
ﮨﺮ ﮔﻞِ ﺧَﻨﺪﺍﮞ ، ﮐﮧ ﻣﺮﮨُﻮﻥِ ﻛﺸﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*خوب منظر کشی ہے ویسے ردیف کے چسکے نے اس غزل کو نظم کا ذائقہ بخشا ہے اور نظم بھی کامل*

ﺗﻴﺮﮔــﺊِ ﻛُﻨﺞِ ﺯِﻧﺪﺍﻥِ ﻏُﻼﻣﻰ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈَﺭ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﻏﺎﺯِ ﮨﻨﮕﺎﻡِ ﺧﻠﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*اچھا ہے البتہ یہی مفہوم کئی گنا بہتر انداز میں کہا گیا ہے*

ﮨﮯ ﻣﻘﺪَّﺭ ﮨﺮ ﻋُﺮﻭﺝِ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﻰ ﻛﻮ زوال
ﻟﻮﺡِ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭَﻗَﻢ (فعلن) " ﻧﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ

*فانی کا ہونا چاہیے تھا باقی شعر سپاٹ بیانیہ.ہے *

---------

یہ پوری غزل ہماری معاصر شاعری کے جدید اسلوب سے بالکل الگ ہے۔۔۔یہ غزل ہمیں ذوق غالب کے عہد میں تو لیجاتی ہے۔۔۔لیکن اس کی مفرس تراکیب کے صوتی آہنگ کے شور میں اس کے معنی کا ترفع اور تنوع بالکل ناپید سا ہوا جاتا ہے۔۔۔۔اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ شاعر نے قافیہ کے تصرف پر کافی زور دینے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے معنی کی ترسیل کا مرحلہ ایک زینہ اور نیچے اتر گیا ہے۔۔۔۔اس غزل کے کلیدی تراکیب کے اعتبار سے اس کے لفظی تلازمات کا استعمال تو کیا گیا ہے۔۔۔لیکن اس میں تناسب و توازن کی گرفت بعض اشعار میں اصراف و تصریف صورت اختیار کرتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔۔۔۔اس غزل پہلے دو شعر پر تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے۔۔۔لیکن اس قطع نظر تیسرا شعر۔۔۔۔
تھپکیاں۔۔۔۔۔۔۔اس شعر میں تین لفظ پر ضرور غور کرنے کی امکانی صورت نظر آرہی ہے۔۔۔۔پہلی بات اس کائنات میں ایسے بھی،، ذی نفس،، یا ذی جان،، پاے جاتے ہیں جو سماعت نہیں رکھتے۔۔۔لیکن وہ قدرت کے عطا کی ہوئی طاقت سے چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔۔لہذا۔۔۔یہاں پر ،،گوش،، کے ساتھ،، ذی جان،، کا لفظ اپنے جواز کی کوئی گنجایش نہیں رکھتا۔۔۔۔۔اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں۔۔۔نیر،، کے ساتھ،، اعظم کا لفظ اضافی ہے۔۔۔جو محض مصرعہ کے کھانچے کو درست کرنے کے لیے رکھاگیاہے۔۔چونکہ ،،نیر،، کے ساتھ اعظم کا استعمال کسی وصف خاص کے لیے مشبہ الیہ کی صورت میں درست ہے لیکن ۔۔۔سورج کی صفت ذات کے لیے نہیں۔۔۔۔
چوتھے شعر۔۔۔۔کے پہلے مصرعہ میں۔۔۔۔تخریب کے ساتھ۔۔۔،، بے نہاں،، اور،، بانہاں،، کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔۔۔اس لیے کہ تخریب محض تخریب ہوتی ہے۔۔۔لہذا اگر صرف لفظ تخریب کے اندرون متن سے ہی ۔۔۔تعمیر کا معنی برآمد کیا جاتا تو اس شعر کا کینویس مزید وسیع ہوجاتا۔۔۔۔خیر۔۔۔۔مجموعی غزل محض قاری پر اپنے معنی کی ترسیل سے زیادہ رعب و دبدبہ کا احساس دلاتی ہے۔۔۔۔لہذا جس نے بھی ہہ غزل کہی ہے۔۔۔اس کے اندر فنی پختگی تو ضرور پائی جاتی ہے۔۔۔۔لیکن یہ شاعری ہم عہد کے سماعت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتی۔۔۔۔

شاہد کمال انڈیا

---------


گفتگو: افتخار راغب

ﻭﻩ ﺭُﺥِ ﺭﻭﺷﻦ ﻣُﺼﻠّﺎﺋﮯ سُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﮑﺮ تو ﺑُﺮﮨﺎﻥِ نموﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ نمود: علامت، رونق، ظاہری خوبی، شان اور ظہور وغیرہ
برہان: دلیل جس میں شک نہ ہو، حجت
اشعار کے الفاظ و تراکیب پر غور کیے بغیر مفہوم تک رسائی مشکل ہے. شاعر کہتا ہے کہ وہ روشن رُخ والا یعنی محبوب صبح کے سجدوں کا مصلا ہے. یا یوں کہا جائے کہ محبوب اتنا روشن چہرے والا یا حسین ہے کہ صبح کی دل کش روشنی بھی اس کے آگے اپنی جبین جھکاتی ہے. مصلا کہنے سے صرف حسن ہی نہیں بلکہ تقدص کا بھی اظہار ہو رہا ہے. اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ بات اتنی ہی نہیں بلکہ محبوب کا پیکر تو نمود صبح کی بہت واضح دلیل ہے. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نعت کا شعر ہے اور بہت فصیح و بلیغ ہے.

ﻣَﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺍِﺭﺗِﻘﺎﺀ ﻛﺎ ﮨﻮﮞ ﺗِﺮﮮ ﺯِﯾﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﻗﺎﺗِﻞِ ﺻَﺪ ﺍﻧﺠُﻢِ ﺗﺎﺑﺎﮞ وُجوﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ شاعر کہتا ہے کہ میں اگر تیرے ارتقا کے پانو کا زینہ ہوں تو کیا ہوا. صبح کا وجود بھی تو سیکڑوں روشن ستاروں کا قاتل ہے یعنی کتنے ہی ستاروں کا قتل کر کے صبح وجود میں آتی ہے. عمدہ شعر ہے. البتہ پہلے مصرع میں پائے ارتقا کا زینہ کہنے میں "پا" حشو معلوم ہوتا ہے صرف ارتقا کا زینہ کہنا کافی ہوتا. شاید پا کا ذکر کر کے شاعر نے روندنے کا مفہوم لیا ہے. بہر کیف شعر اچھا لگ رہا ہے.

ﺗﻬﭙﻜﻴﺎﮞ ﺩﻳﺘﺎ ﮨُﻮﺍ ﻭﮦ ﮔﻮﺵِ ﮨﺮ ذى جان ﭘﺮ
ﻧﯿّﺮِ اعظم ﻛﺎ ﮨﺮﮐﺎﺭﮦ ، ﺳﺮﻭﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ شاعر کہتا ہے کہ وہ صبح کا سُرود جو نیّرِ تاباں یعنی سورج کا ہرکارہ ہے ہر ذی جان یعنی جان دار کے گوش یعنی کان پر تھپکیاں دے کر جگاتا ہے. شعر کا مفہوم بہت عمدہ ہے. البتہ "ذی جان" کی جگہ "ذی روح" زیادہ بھلا لگتا. شعر میں تعقید بھی بہت زیادہ ہو گئی ہے.

ﮨﮯ ﻧِـﮩﺎﮞ ﺗﺨﺮﻳﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﻠُﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﻌﻤِﯿﺮ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺵِ ﺷﺐ ﭘﺮ ، ﭘﺮﺩﻩِ ﭼﺮﺥِ ﻛﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ پہلے مصرع میں شاعر ایک دعویٰ کرتا ہے کہ تخریب کے پہلو میں ایک تعمیر چھپی ہوتی ہے. اس کی دلیل کے طور پر کہتا ہے کہ اسی طرح رات کے کاندھوں پر صبح کا آسمانی پردہ ہے. گویا رات تخریب ہے اور صبح تعمیر. میرے خیال سے دونوں مصرعوں میں پوری طرح مطابقت نہیں ہو پائی ہے اگرچہ دونوں مصرع اپنی جگہ بہت عمدہ ہیں.

ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﮨﮯ ﺯﯾﺮِ ﺑﺎﺭِ ﻣِﻨّﺖِ ﺑﺎﺩِ ﻧﺴﻴﻢ
ﮨﺮ ﮔﻞِ ﺧَﻨﺪﺍﮞ ، ﮐﮧ ﻣﺮﮨُﻮﻥِ ﻛﺸﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ شاعر نے پہلے مصرع میں پانچ الفاظ کو اضافت کے ذریعہ جمع کیا ہے جو اردو میں مستعمل اضافت کی آخری حد ہے. زیادہ الفاظ کو اضافت کے سہارے جوڑنے سے فارسیت غالب ہو جاتی ہے. شاعر کہتا ہے کہ ہر سانس بادِ نسیم کے احسانات تلے دبی ہوئی ہے. اور ہر کھِلا ہوا پھول صبح کی کشود کی مرہونِ منت ہے. بہت عمدہ شعر ہے. البتہ بیان کچھ زیادہ پُر تکلف ہو گیا ہے. بادِ نسیم میں بھی نسیم کا کوئی خاص جواز نہیں ہے سانس کے لیے صرف صاف ہوا کافی ہے بادِ نسیم لازمی نہیں ہے.

ﺗﻴﺮﮔــﺊِ ﻛُﻨﺞِ ﺯِﻧﺪﺍﻥِ ﻏُﻼﻣﻰ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈَﺭ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﻏﺎﺯِ ﮨﻨﮕﺎﻡِ ﺧﻠﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ شاعر کہتا ہے کہ غلامی کے زندان کے کنج کی تیرگی سے نہ ڈر کیوں کہ صبح کے خلود کے ہنگام کا آغاز ہو چکا ہے. یعنی یہ تیرگی جلد ختم ہونے والی ہے. ان تراکیب میں دو الفاظ شعر کو گنجلک بنا رہے ہیں یا مناسب نہیں معلوم ہو رہے ہیں. پہلا ہے کُنج جس کے معنی ہوتے ہیں درختوں کے سائے میں بیٹھنے کی جگہ یا بیل بوٹوں کی جگہ. ہندی میں اس کے معنی گلی کوچے کے بھی ہیں لیکن اضافت کی صورت میں ہندی مفہوم لینا یعنی اسے ہندی لفظ سمجھنا مناسب نہیں ہے. دوسرا لفظ ہے خُلود جس کے معنی ہیں ہمیشگی. اگر "آغازِ ہنگامِ خلودِ صبح" سے شاعر نے موت مراد لیا ہے تو پھر یہ مفہوم درست مانا جا سکتا ہے پھر بھی کُنج کا مفہوم شعر کو الجھا رہا ہے.

ﮨﮯ ﻣﻘﺪَّﺭ ﮨﺮ ﻋُﺮﻭﺝِ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﻰ ﻛﻮ زوال
ﻟﻮﺡِ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭَﻗَﻢ (فعلن) " ﻧﺒﻮﺩِ ﺻُﺒﺢ ﮨﮯ
★★★ جب دارِ فانی کہہ دیا تو زوال چہ معنی دارد. "ہر عروجِ دارِ فانی" کہنا بھی مناسب نہیں لگ رہا ہے. بلکہ شعر میں "دارِ فانی" کی ترکیب نے بھی الجھاو پیدا کر دیا ہے.
مجموعی طور پر بہت عمدہ اور اعلیٰ معیار کی غزل ہے جو مرزا غالب کے انداز میں کہی گئی ہے. مشکل الفاظ و تراکیب موجودہ دور کے مطابق حد سے تجاوز کر گئے ہیں. شاعر کی تخلیقی قوت قابلِ داد ہے. مشکل زمین اور مشکل تراکیب کے ساتھ ایک عمدہ غزل کے لیے شاعر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.

شاعری کی مشق کیسے کی جائے۔

شاعری کی مشق کرنے والے نئے احباب مشق کیسے کریں
تحریر : چوہدری شہزاد کھرل



اچھا خیال یا مضمون کسی نو آموز کے ذہن میں بھی آ  سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی مشاق شاعر ہونا شرط نہیں ہے۔ البتہ اچھے شاعر کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ جس لمحے اس کے ذہن پر خیال وارد ہوتا ہے اسی لمحے وہ اسے الفاظ کا جامہ پہنا لیتا ہے۔ چونکہ اس کی متعدد بحروں پر مشق ہو چکی ہوتی ہے اس لئے اسے یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ اس مضمون کو کون سی بحر میں موزوں کرنا ہے۔ شاید اسی لیے کچھ دوست دعوی کرتے ہیں کہ "خیال اپنے بحر قافیہ ردیف سمیت وارد ہوتا ہے۔ "
اس کے برعکس نئے شاعر پر جب کوئی عمدہ خیال مہربان ہوتا ہے تو شاعر چونک جاتا ہے لیکن اس چونکا دینے والے خیال کو جب وہ بحر قافیہ اور ردیف کی کسوٹی سے گزار کر داد و تحسین کے لیے منظرِ عام پر لاتا ہے تو پڑھنے والے "ہیں؟؟ " کر کے رہ جاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ جب کسی جہاں دیدہ سمجھدار خاتون کے گھر خوبصورت بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بہترین ملبوس میں دیکھنے والوں کے سامنے لاتی ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے "ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے۔"
لیکن ویسا ہی خوبصورت بچہ کسی کم عقل، پھوہڑ خاتون کے گھر پیدا ہو تو وہ اسے کبھی ذیادہ تنگ اور کبھی زیادہ کھلے کپڑے پہنا پہنا کے اتار اتار کے ادھ مووا کر دیتی ہے۔ آخر قدرے تنگ یا کھلے لباس میں دیکھنے والوں کے سامنے لاتی ہے۔ دیکھنے والے تو پھر یہی کہیں گے کہ "بہنا! بچہ تو چلو اچھا ہی ہے لیکن کپڑے تو اسے ڈھنگ کے پہناؤ!"

تو چلیں سیکھتے ہیں کہ خیال کو ادھ مووا ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟
جب بھی کوئی عمدہ خیال آپ کے ذہن پر کوندے اسے ذہن میں ایک ختمی شکل دینے کی کوشش کریں۔ اگرچہ نیا خیال ابتداءً چونکا دینے والا ہوتا ہے لیکن غور وفکر اسے مزید نکھار بخشنے کے لیے ضروری ہے پھر اس ختمی شکل کو عمدہ نثر کی صورت میں ایک کاغذ پر تحریر کر کے تصدیق کر لیں کہ یہ وہی خیال یا مضمون ہے جس پر آپ مشق کرنا چاہتے ہیں؟ پھر اس نثر میں موجود اہم الفاظ کے مترادفات اور اچھی اچھی ترکیبیں بھی لکھ لیں۔ یاد رہے یہ مترادفات اور تراکیب آپ اپنے شعر کو وزن میں لانے کے لئے اور اسے مزید پر اثر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر آپ عشق، پیار، محبت اور الفت میں سے یا ہجر، جدائی، فراق اور بچھڑنا وغیرہ میں سے ایسے لفظ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جو وزن کی ضرورت، شعر میں استعمال ہونے والے دیگر الفاظ کی رعایت اور مضمون کی مناسبت کے پیش نظر زیادہ بہتر ہو۔ اسی طرح "آنکھ کا نور" یا "نورالعین" اور "تڑپتا دل" یا "دلِ بسمل" جیسی تراکیب میں سے بہتر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
پھر اس خیال کے دو حصے کر لیں۔ آپ کو یہ مضمون دو مصرعوں میں پیش کرنا ہے تا کہ آپ کا شعر دولخت نہ ہو۔ مناسب ہے کہ پہلے حصے میں تشنگی اور تجسس کا عنصر ہو اور چونکا دینے والا عنصر دوسرے حصے میں ہو۔
پھر آپ کو بحر قافیے اور ردیف کا انتخاب کرنا ہے اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ خیال کے دو حصوں ميں سے جو حصہ آپ نے دوسرے مصرعے کے لیے منتخب کیا ہے اسے الفاظ کی نشست بدل بدل کر کسی سُر میں یا بحر میں لانے کی کوشش کریں۔ یعنی اگر مصرع سر یا ترنگ میں آ گیا تو سمجھیں بحر میں بھی آ گیا۔ مصرع وزن میں لانے کے لئے آپ مختلف الفاظ کو مترادفات کے ساتھ بدل کر بھی کوشش کر سکتے ہیں۔
بحر منتخب ہو جانے پر پہلے مصرعے میں بھی کانٹ چھانٹ کر کے شعر مکمل کریں اور اب اس شعر کا موازنہ نثر میں لکھے گئے خیال سے کریں کہ جوکچھ آپ کہنا چاہتے تھے وہ مفہوم شعر سے واضع ہو رہا ہے یا نہیں؟
اس کے بعد دوسرے مصرعے میں سے کسی مناسب لفظ کو قافیہ قرار دے لیں اور اس کے بعد والے الفاظ ردیف قرار پائیں گے۔ اور یوں آپ مذید اشعار نکال کر غزل مکمل کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں اگر آپ کے پاس خیال عمدہ ہے تو قافیے ردیف کا انتخاب خیال کو کرنے دیں یہ نہ سوچیں کہ اس سے زیادہ شعر نکل پائیں گے یا نہیں۔ کیوں کہ بعض اوقات ایک عمدہ شعر ہی آپ کی پہچان بن جاتا ہے۔ ایسے شعر کو اشعار کی تعداد بڑھانے کے لئے قربان نہ کریں۔
ایک اور بات۔
مشق کا مطلب مضمون کو مختلف طریقوں سے باندھ کر بہتر  کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ کی زبان پر مختلف بحریں رواں ہو چکی ہیں تو مضمون کو دو تین بحروں میں موزوں کرنے کی مشق کی جا سکتی ہے۔ ورنہ مضمون کو ایک ہی بحر میں دس مختلف طریقوں سے باندھیں۔
 جیسے
محبت کھیل بچوں کا نہیں ہے۔
نہیں ہے کھیل یہ پیارے محبت ہے
نہ سمجھو عشق بچوں کا کھلونا
کہاں تم پیار کو اے بازی گر جانو
نہیں بازیچہءِ اطفال، چاہت ہے
مضمون کے ایک حصے کو پانچ مختلف طریقوں سے باندھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اظہار، بیان، مبالغے اور الفاظ کی بندش کے لحاظ سے تمام مصرعے ایک دوسرے سے بہتر یا کمتر ہیں۔ اسی طرح دوسرے مصرعے میں تبدیلی کرکے مزید صورتیں پیدا کی جا سکتی ہیں اور ان میں سے بہتر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

آپ کو یاد ہو گا یہ گفتگو کسی عمدہ اور اچھوتے خیال کے متعلق ہو رہی ہے لیکن اگر آپ کسی جاری غزل پر کام کر رہے ہیں تو ظاہر ہے زمین پہلے سے منتخب شدہ ہے۔ قافیے جمع کریں۔ ان میں سے ایک قافیے پر غور و فکر کریں اور ایک خیال ترتیب دے کر نثر کی صورت میں لکھ لیں۔ پھر خیال کو موزوں کر کے نثر کے ساتھ موازنہ کر لیں کہ شعر آپ کے خیال کا احاطہ کر رہا ہے یا نہیں۔
لیکن یاد رکھیں کسی اچھوتے خیال کو پہلے سے زیرِ مشق غزل میں اگر زمین موافق نہ ہو تو زبردستی لانے کی کوشش نہ کریں ورنہ آپ خیال کا گلا گھونٹنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔

شہزاد احمد کھرل

Saturday, 9 March 2019

تلازمہ کاری--- تحریر : غلام مصطفیٰ دائم اعوان

تلازمہ کاری
تحریر : غلام مصطفیٰ دائم اعوان

تلازمہ سے مراد کسی شعر کے دونوں مصارع میں ازروئے معنیٰ و خیال باہمی مناسبت ہے، عدمِ تلازمہ شعر کا عیبِ قبیح ہے، جسے دولخت ہونا بھی کہتے ہیں!

"انشائے بہارِ بے خزاں" کے صفحہ نمبر 66 پر تلازمہ کی یہ تعریف ملتی ہے :
"مضمون کی رعایت سے الفاظ کا استعمال جو صفت شعری میں داخل ہے۔ کسی چیز کے سارے یا بعضے لوازم کو دوسرے مطلب میں اسی خوشنمائی کے ساتھ ادا کرنا کہ کوئی لفظ ان لوازم کا بے محل یا بے معنی نہ ہو"

یعقوب آسی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ :
"ادبی تنقیدی گفتگو میں ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے: ’’تلازمہ‘‘ اس میں لازم و ملزوم والی صورت کا اپنی حتمیت کے ساتھ واقع ہونا ضروری نہیں سمجھا جاتا، تاہم یہ ضرور ہے ہوتا ہے کہ باہم بہت قریبی تعلق رکھنے والے اسماء، افعال وغیرہ پر اس کو لاگو کرتے ہیں"

*شعر میں تلازمۂ خیال کی ماہیت*
کسی امر یا شے کی حقیقت، اصلیت اور اصل کیفیت کو ماہیت کہتے ہیں اور تلازمۂ خیال کی ماہیت سے مراد شعر کی بُنت میں الفاظ و معانی کا باہم متناسب ہونا ہے. اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، معائباتِ سُخَن میں اولیں خرابی شعر میں عدمِ تلازمہ ہے. Stream of Consciousness ایک نفسیات کا ایک علم ہے، اس کی دریافت امریکی "سکالرولیم جیمس" نے کی تھی۔ اس کے نظریے کے مطابق انسانی شعور ایک سیّال مادے کی مانند ہوتا ہے. کبھی کبھی انسان کے ذہن میں کوئی خیال پیدا ہوتا ہے اور پھر خیالات و تصورات فلم کے پردے کی طرح چلنے لگتے ہیں، ایک خیال کسی دوسرے خیال یا واقعے سے ذرا سی مناسبت کے سہارے آگے بڑھتا ہے اور یہ عمل کسی نقطے پر اختتام پزیر ہوتا ہے، اس علم میں شعور کے موج در موج بہاﺅ کو قلمبند کرنے کا تجربہ کیا ہے. آزاد تلازمۂ خیال کی تکنیک ایک ایسا موضوع ہے جس پر معمولی سا لکھا گیا ہے. تلازمۂ خیال کی ماہیت میں اس کا ذکر بایں وجہ ہے کہ اصلاً ماورائی سطح پر ان کے تانے بانے آپس میں یکجا ہیں. ماہیت یہی ہے کہ نُقطۂ شعور کا انسلاک کسی ایک ذہنی نکتے پر ہو جائے،چاہے یہ انسلاک دو اشخاص کے ذہنی رابطے کے مابین ہو یا ایک ہی ذہن کی تخلیقی قوت میں معانی کا باہم متناسب ہونا ہو، ہر دو طرح سے ماہیت پرکھی جا سکتی ہے، فی الحال ہمارا موضوع "شعر میں تلازمۂ خیال کی ماہیت" ہے اور ظاہر ہے انسلاکِ شعور کی دوسری قسم مراد ہوگی.

اساتذہ کے ہاں تلازمہ کا اہتمام
اُردو ادب، بالخصوص شاعری میں شعراء نے’’ تلازماتِ شعری ‘‘ کے تحت سُنّتِ ابراہیمی کی پیروی میں جانور ذبح کرنے کے سلسلے میں ’’چُھری‘‘،’’خنجر‘‘،’’شمشیر‘‘(اونٹ کو نحر کرتے وقت شمشیر یا تلوار کا استعمال کیا جاتا ہے) ’’قُربانی‘‘، ’’سَر‘‘،گلا‘‘،’’گردن‘‘،’’ذبح‘‘،’’بسمل‘‘،دمِ نزع‘‘تڑپنا‘‘ اورچند دیگر الفاظ استعمال کیے ہیں۔
عید الاضحی کے سلسلے میں یہ شعر تو بہت مشہور ہے۔ ؎ یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قُرباں…وہی ذبح بھی کرے ہے،وہی لے ثواب اُلٹا(منسوب :انشا اللہ خاں انشاؔ)۔ میں عجب یہ رَسم دیکھی مجھے روزِ عیدِ قُرباں…وہی ذبح بھی کرے ہے،وہی لے ثواب اُلٹا(منسوب: غلام ہمدانی مصحفیؔ)۔شعر کا مفہوم اس خیال پر مبنی ہے کہ قُربانی کا جانور اپنے ذبح کیے جانے پر مُلول ہے اور یہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ جو مجھے ذبح کر رہا ہے، اُسے تو ثواب سے نوازا جا رہا ہے اور میں غریب جو ذبیحہ ہوں، کسی شمار میں نہیں ۔اس مشہور شعر کو دو اساتذۂ سخن، میر انشااللہ خاں انشاؔ اور مصحفیؔ سے منسوب کیا جاتا ہے۔اسی تسلسل میں ایک اور شعر بھی بہت مشہور ہے، جو کچھ یوں ہے۔؎ سر بوقتِ ذبح اپنا ،اُس کے زیرِ پائے ہے…یہ نصیب اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے(ذوقؔ) ۔ذوقؔ دہلوی جیسے مسلّم الثبوت استاد کا یہ شعر، اگرچہ براہِ راست عیدِ قُرباں سے متعلق نہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ مُحب اپنے کو بہت خوش نصیب متصوّر کر رہا ہے کہ محبوب نے اُسے اپنی راہ کا کانٹا سمجھتے ہوئے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اُسے ذبح کرنے کے لیے اپنا پیر اُس پر رکھا ہے، مگر یہ مُحب کے لیے مقامِ آسودگی ہے۔ تاہم، ’’تلازماتِ شعری‘‘ اُسے کیفیتِ قُربانی کا حامل شعر بناتے ہیں۔ استاد ذوقؔ دہلوی کے مزید دو اشعار بھی اسی رنگ کی عکّاسی کرتے ہیں، یعنی’’تلازماتِ شعری‘‘کے تحت اُنھیں عیدِ قُرباں پر یوں محمول کیا جا سکتا ہے کہ’’تڑپنا‘‘،’’دمِ ذبح‘‘،آنکھ پِھر جانا‘‘،’’ گلے پر خنجر پِھرنا‘‘مخصوص منظر نامے کو اُجاگر کرتے نظر آتے ہیں، مگر شعری حیثیت کے تحت اشعار غزلیہ ہیں۔؎ ’’مَیں نہ تڑپا دمِ ذبح، تو یہ باعث تھا…کہ رہا مدِ نظر ،عشق کا آداب مجھے۔‘‘ ’’ پِھرتے ہی آنکھ کے، پھیریں گے گلے پر خنجر…ہو چکا آپ کا معلوم ہے، ایما ہم کو۔‘‘ البتہ ذوقؔ نے اس شعر میں براہِ راست عید الضحیٰ کا لفظ استعمال کیا ہے۔؎ عیدِ اضحیٰ تجھے ہر سال مبارک ہووے…تجھ پہ ہو سایۂ حق اور ترے سائے میں جہاں۔
امیرؔ مینائی کہنہ مشق شاعر اور داغؔ کے ہم عصر تھے۔ درج ذیل شعر اگرچہ براہِ راست عیدِ قُربانی کی عکّاسی کرتا نظر نہیں آتا، تاہم ’’پُتلیاں بدل جانا،’’دمِ نزع‘‘ اُسی تلازماتِ شعری کا حصّہ ہیں جو ایک مخصوص صورت کواُجاگر کرتے ہیں۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جب وقتِ آخر آتا ہے، تو آنکھوں کی پُتلیاں بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور اجنبی بن جاتی ہیں۔اب اُن کا شعر پڑھیے۔ ؎ پُتلیاں بھی بدل گئیں دمِ نزع…قت پہ کوئی آشنا نہ ہوا۔بحرؔ کا درج ذیل شعر ’’چُھری‘‘،’’گلے‘‘،’’عید‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اُسی منظر نامے کو اُجاگر کرتا نظر آتا ہے، جو قُربانی کے دن سے منسوب ہے اور جسے عیدِ الاضحیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ہم عاشقوں سے رُتبہ عبادت کا پوچھیے…جس دَم چُھری گلے سے ملی،ہم نے عید کی۔اب خواجہ حیدر علی آتشؔ کا شعر پڑھیے اور دیکھیے کہ انہوں نے کیسے تلازماتِ شعری کو استعمال کرتے ہوئے قُربانی کے دن کی تصویر کھینچی ہے۔؎ بے چُھری کرتے ہیں کافر عاشقوں کو اپنے ذبح…جوہرِ قصّاب کسی طفلِ برہمن میں نہیں۔
’’چُھری پڑھنا‘‘ محاورہ ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ مفعول پرسورۂ یٰس یا دُعائے ذبح پڑھی جائے۔اس لیے یہ شعر بھی اُسی مخصوص منظر نامے کی عکّاسی کرتا ہے ،جو عیدِ قُرباں سے منسوب ہے۔؎ عیاں ہے جنبشِ اُبرو سے ذ،بح کی نیّت…پڑھی چُھری ہے، کسے دیکھیے حلال کریں(مُنیرؔ) ۔اسیرؔ لکھنوی اور اُس کے نیچے قلقؔ دونوں کے اشعار مخصوص لفظیات کے استعمال کے ساتھ عیدِ قُربانی کا تصوّر لیے ہیں۔؎’’ قیامت ہے ،بندھی ہے ذبح کے دَم آنکھ پر پٹی…رہا دل میں تلاطم حسرتِ دیدارِ قاتل کا(اسیرؔ)۔‘‘ ’’ دیکھنا قسمت کی خوبی نیم جاں میں رہ گیا…ذبح کرنے کا نہ کچھ ڈھب تھا مرے جلّاد کو(قلقؔ)۔‘‘برقؔ کا یہ شعر تو واضح طور پر قُربانی کے ذبیحے سے تعلق رکھتا ہے، لہٰذا کسی تشریح کا متقاضی نہیں ہے۔؎ ’’ نہ پھیر گردنِ مجروح پر چُھری ظالم…زبانِ صبر و رضا گوسفند رکھتا ہے۔‘‘دیکھیے مرزا غالبؔ اس عنوان کو کیسے بیان کرتے ہیں ؎’’ شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خُو مجھ کو…جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو۔‘‘ ’’شہادت‘‘،’’تلوار‘‘،’’گردن‘‘ کے تلازماتِ شعری کے ساتھ اس شعر کا اطلاق قُربانی کے گوسفند پر یوں نظر آتا ہے کہ وہ چُھری کو دیکھتے ہی گردن جھکا دیتا ہے۔ شعری مفہوم کے تحت غالبؔ بیان کرتے ہیں کہ جب آسمانوں پر تقدیر کے فیصلے لکھے جا رہے تھے، تو کاتبِ ازل نے میری قسمت کے خانے میں شہید تحریر کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیںمیں نے تلوار یا شمشیر دیکھی، اپنی گردن جھکا دی۔میر تقی میرؔ نے اس عنوان کو دوسرے رُخ سے بیان کیا ہے۔ اُن کا مشہور ترین شعر ہے ؎’’ زیرِ شمشیرِ ستم میرؔ تڑپنا کیسا…سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا۔‘‘شعر کی لفظیات پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تلازماتِ شعری اُسے پورے طور پر قُربانی سے منسوب کرتے نظر آ رہے ہیں،جیسے’شمشیر‘‘،’’ستم‘‘،’’تڑپنا‘‘،’’سر ہلانا‘‘۔تاہم اس شعر کا اصل اطلاق، واقعہ کربلا پر ہوتا ہے کہ جہاں نواسۂ رسولﷺ ،جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ، حسینؓ ابنِ علیؓ نے اسلام کو بچانے کے لیے اپنی جان اس طرح جانِ آفریں کے سُپرد کر دی کہ شمشیرِ ستم کے نیچے دمِ آخر لب پر پروردگار کی کبریائی اور یک تائی کا مسلسل اعلان تھا۔

آزاد تلازمہ خیال کے شعری اسلوب پر اثرات کے حوالے سے کہوں گا کہ آزاد تلازمہ کے ابلاغ کا قاری کے لیے مسئلہ ہے... کیونکہ یہاں شاعر جو بات کر رہا ہوتا ہے اس تک پہنچنے کے لیے قاری کو بہت دقت ہوتی ہے.. ایک ابہام کی سی کیفیت رہتی ہے

تلازمہ قائم کرنے کی ممکنہ صورتیں کیا ہو سکتی ہیں تو اس سلسلے میں یہ کہونگا کہ ہر شاعر کی اپنی اپروچ ہے وہ کتنا مختلف سوچتا ہے یہ بات معنی رکھتی ہے.. اپنے مضمون کے حوالے سے کتنی متبادل صورتیں مع ان کے تلازمہ اس کے پاس ہیں.. میرے خیال میں جس شاعر کے سوچنے کا انداز سب سے الگ ہو گا اس کے استعمال کردہ تلازمے بھی بالکل الگ سے برتے ہوں گے..

*شمعون سلیم کا ایک اقتباس*
تیس چالیس سال پرانی بات ہے۔ نشتر کے زمانہِ طالبعلمی میں ایک گفتگو کے دوران مجھے علمِ نفسیات کی ایک اصطلاح، تلازمہِ خیال (association of ideas) کی اہمیت بتانا تھی۔ اگرچہ اس وقت مجھے خود ٹھیک سے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا گھمبیر موضوع ہے لیکن مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ
"ایک خیال کا دوسرے خیال سے اور دوسرے کا آگے تیسرے سے جڑے ہونا۔ یہ ایسے ہے جیسے میں کہوں "کھجور" اور آپ کے کانوں میں نعت بجنی شروع ہو جائے۔"
میرے دوست نے جواب دیا کہ
"پھر تو dissociation زیادہ ضروری ہے۔"

Tuesday, 5 March 2019

منتخب اشعار : شاعر : احمد کمالؔ حشمی

 احمد کمال حشمی کا شعری مجموعہ بنام ☜☜ "سفر مقدر ہے“ سے چند منتخب اشعار آپ احباب کی بصارتوں کی نذر
انتخاب کنندہ : غلام مصطفیٰ دائم اعوان
--------




نام ☜☜ احمد کمالؔ حشمی
24 اگست 1964 کو یوپی میں پیدا ہوئے
مغربی بنگال میں شعبۂ ارضی سے منسلک ہیں
1987 میں شاعری کا آغاز کیا
دو کتابیں مرتب ہو چکی ہیں :
آیاتِ سخن (کلکتہ کے مضافات کے شعرا کا انتخاب)
سفر مقدر ہے

دو کتابیں زیر ترتیب ہیں :
چاند، ستارے، جگنو، پھول (بچوں کی نظمیں)
سنگِ بنیاد (تظمینیں)
-------


کسی بھی چھت کو بلندی کبھی نہیں ملتی
انہیں بٹھاتے نہ سر پر اگر درودیوار
صفحہ نمبر 26

میرے دل کی دھڑکن کی کر رہے ہیں عکّاسی
بند ہو کے کھلتے ہیں بار بار دروازے
صفحہ نمبر 28

رقص میں شعلوں کے شامل ہیں درپردہ وہ بھی
دیر و حرم میں جو دن رات صحیفے پڑھتے ہیں
صفحہ نمبر 29

میں ہوں تالاب چھوٹا سا ہجومِ تشنہ لب میں ہوں
اسے ہے زعم وسعت کا مگر تنہا سمندر ہے
صفحہ نمبر 34

دیکھنا ہے رہنے پاتا ہے سلامت کب تلک
پتھروں کی بھیڑ میں ہے ایک اکیلا آئینہ
سفر مسجد 36

ایک گوشے میں پڑا رہتا ہے بوڑھا گھر میں
طاق پر جیسے کہیں کوئی صحیفہ گھر میں
صفحہ نمبر 41

ہنس کر لپک لپک کے ہوا دے رہے تھے جو
کچھ شعلے ان کی سمت بھی ہنس کر لَپَک گئے
صفحہ نمبر 42

میری آنکھوں کا مقدر ہیں اندھیرے اب تو
میں نے دیکھا تھا کبھی مہرِ منوّر کی طرف
صفحہ نمبر 48

یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ کاغذ کے بدن
آگ کے خوف سے تالاب لیے پھرتے ہیں
صفحہ نمبر 134

سونے کے پھول دان میں کاغذ کے پھول ہیں
ہر کو کھلے بدن پہ چمکتا لباس ہے
صفحہ نمبر 133

ڈولتا رہتا ہے دل اس میں سفینے کی طرح
عشق اُمڈے ہوئے دریا کا سَفَر لگتا ہے
صفحہ نمبر 133

اس کی ٹھوکر نے سنبھلنے کا ہنر بخشا مجھے
اتنی اونچائی پہ میں اس کے گِرانے سے اٹھا
صفحہ نمبر 132

سب اپنے سائے کو کہنے لگے ہیں قد اپنا
اے آفتاب یہاں دوپہر ضروری ہے
صفحہ نمبر 120

دیوانے نکل آئے ہیں منزل سے بھی آگے
دانا تو ابھی راہ گزر ڈھونڈ رہے ہیں
صفحہ نمبر 112

سانس لینے کو ہی زندگی مَت کہو
ہے کچھ بھی اس کے سوا زندگی
صفحہ نمبر 107

دشمن ہمارا کوئی کہیں شہر میں نہ تھا
ہم نے ہی اپنے قتل پہ انعام رکھ دیا
صفحہ نمبر 99
--------
یہ انتخاب اس لنک پر بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے
http://www.aalamibesturdupoetry.com/احمد-کمالؔ-حشمی-کا-شعری-مجموعہ-سے-چند-من/

Saturday, 23 February 2019

جاوید احمد غامدی کے عقائد

جاوید احمد غامدی کے عقائد

غامدی صاحب کی مختلف کتابوں میں جو نظریات موجود ہیں اس کی ایک مختصر فہرست میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ غامدی کے غلط نظریات مسلمانوں کے سامنے آجائیں ان کے تمام غلط نظریات کا پیش کرنا تو بہت لمبا کام ہے لیکن چند اہم غلطیوں کی نشاندہی بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔۔
نوٹ: تمام نکات کے حوالہ جات ساتھ درج ہیں، آخری سات نکات کے لنکس موجود ہیں، youtube وغیرہ پر مسئلہ لکھ کر غامدی صاحب کا نظریہ بآسانی دیکھا اور قران و سنت و سلف سالحین کے منہج پر پرکھا جا سکتا ہے۔۔
1- قرآن کی صرف ایک ہی قرات درست ہے، باقی سب قراتیں عجم کا فتنہ ہیں۔۔ میزان صفحہ 25، 26، 31، طبع دوم اپریل 2002
2- سنت قرآن سے مقدم ہے۔۔ میزان صفحہ 52 طبع دوم اپریل 2002
3- سنت صرف افعال کا نام ہے، اسکی ابتدا محمد صل اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ ابراہیم علیہ اسلام سے ہوئی تھی۔۔ میزان صفحہ 10 ، 65 طبع دوم اپریل 2002
4- سنت صرف ستائیس اعمال کا نام ہے۔۔  میزان صفحہ 10 طبع دوم اپریل 2002 ( کچھ عرصہ بعد غامدی نے کہا کہ سنت صرف اس اعمال کا نام ہے اور آج ان کی نظر میں سنت محض 13 اعمال کا نام ہے پچھلی تمام کو منسوخ کر چکے ہیں اور اس طرح بیش بہا سنت کی بہاریں اور صحیح احادیث کا بھی انکار کر چکے ہیں)
5- حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا۔۔ میزان صفحہ 46، طبع دوم اپریل 2002
6- دین کے مصادر و ماخذ قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق،  سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف ہیں۔۔ میزان صفحہ 48 طبع دوم اپریل 2002
7- دین میں معروف اور منکر کا تعین فطرت انسانی کرتا ہے۔۔ میزان صفحہ 49 طبع دوم اپریل 2002
8- نبی ص کی رحلت کے بعد کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔۔ ماہنامہ اشراق دسمبر 2002 صفحہ 54، 55
9- زکوۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں ہے۔۔  قانون عبادات صفحہ 119 طبع اپریل 2005
10- اسلام میں موت کی سزا صرف دو جرائم  (قتل نفس اور فساد فی الأرض ) پر دی جا سکتی ہے۔۔ برہان صفحہ 143 طبع چہارم جون 2006
11- دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا۔۔ برہان صفحہ 18،19 طبع چہارم جون 2006
12- قتل خطأ میں دیت کی مقدار منصوص نہیں ہے اور یہ ہر زمانے میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔۔ برہان صفحہ 18 ، 19 طبع چہارم جون 2006
13- عورت اور مرد کی دیت (blood money ) برابر ہوگی۔۔ برہان صفحہ 18 طبع چہارم جون 2006
14- مرتد کے لئے قتل کی سزا نہیں ہے۔۔ برہان صفحہ 140 طبع چہارم جون 2006
15- شادی شدہ اور کنوارے زانی دونوں کے لئے ایک ہی حد سو کوڑے کی ہے۔۔  میزان صفحہ 299،  300 طبع دوم اپریل 2002
16- شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں۔۔  برہان صفحہ 138 طبع چہارم جون 2006
17- غیر مسلم بھی مسلم کے وارث ہو سکتے ہیں۔۔ میزان صفحہ 171 طبع دوم اپریل 2002
18- سور کی کھال اور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال شریعت میں ممنوع نہیں ہے۔۔ ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 1998 صفحہ 79
19- عورت کے لئے ڈوپٹہ یا اوڑھنی پہننا شرعی حکم نہیں۔۔ ماہنامہ اشراق مئی 2002 صفحہ 47
20- کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں، خون ، مردار، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔۔میزان صفحہ 311 طبع دوم اپریل 2002
21- بعض انبیا قتل ہوئے مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔۔ میزان حصہ اول صفحہ 21 طبع 1985
22- عیسی علیہ اسلام وفات پا چکے ہیں۔۔ میزان حصہ اول صفحہ 22 ، 23، 24 طبع 1985
23- یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں۔۔ ماہنامہ اشراق جنوری 1986
24- جانداروں کی مصوری کرنا بلکل جائز ہے۔۔ ادارہ المورد کی کتاب "تصویر کا مسئلہ " صفحہ 30
25- موسیقی، ناچ اور گانا بجانا بھی جائز ہے۔۔ ماہنامہ اشراق مارچ 2004 صفحہ 8 اور 19
26- عورت مردوں کی امامت کرا سکتی ہے۔۔ ماہنامہ اشراق مئی 2005 صفحہ 35 تا 46
27- اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں۔۔ میزان صفحہ 264 طبع دوم اپریل 2002
28- کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور مفتوح کافروں سے جزیہ لینا بھی جائز نہیں۔۔ میزان صفحہ 270 طبع دوم اپریل 2002
29- مسلم عورت غیر مسلم اہل کتاب مرد سے چاہے تو شادی کر سکتی ہے۔۔
30- زنا کے ثبوت کے لئے شریعت میں چار گواہوں کی ضرورت نہیں۔۔
31- سود دینا جائز ہے۔۔
32- عیسی علیہ السلام اور محمد بن عبداللہ  (امام مہدی) وغیرہ نہیں آئیں گے۔۔
33-داڑھی عرب کلچر کا حصہ تھی اس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔۔
34- ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور حکومت بنانے کا واحد شرعی طریقہ جمہوریت ہے۔۔
35- مرزا غلام احمد قادیانی ایک صوفی تھا اس نے کبھی نبوت کا دعوی نہیں کیا ، اسے کافر قرار دینا غلطی تھی۔۔
36- چار مخصوص کام کے علاوہ شریعت میں کوئی اور کام حرام نہیں۔۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں منظر عام پر آ چکی ہیں جو اس فتنہ کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔۔
آخری سات نکات کی سافٹ کاپی میرے پاس موجود نہیں پر ویڈیوز youtube پر موجود ہیں۔۔
اہل علم جانتے ہیں کہ مذکورہ بالا تمام عقائد قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور ان سے دین اسلام کے مسلمات کی نفی ہوتی ہے جن پر عمل پیرا ہونا ایمان کے لئے بھی شدید خطرناک ہو سکتا ہے۔۔

گیسُوئے سُخَن

توارد اور سرقہ کیا ہیں؟ اقسام و احکام اور قیود و احترازات کا بیان

توارُد کیا ہے؟  ”غیر ارادی طور پر کسی خیال کا دو اشخاص کی منظومات میں داخل ہونا“ مصطفى غلفان کی کتاب ”المعجم الموحد لمصطلحات اللسانيا...