Posts

گیسُوئے سُخَن

اردو نعت کی شعری روایت -- ایک جائزہ مضمون نگار : ڈاکٹر محمد اشرف کمال۔بھکر

ABSTRACT: The book 'URDU NAAT KI SHAIRY RIWAYAT ', compiled by Sabih Rehmani has been reviewed in this article. Salient points have been highlighted to show the matters discussed by different scholars. Each article contains some intellectual light on the topics of Definition of Naat, History of Naat, Trends of Naat and Pre-requisites of the genre of Naat. This write up is a brief introduction of the book under review.

اردو اصناف ادب میں نعت گوئی ہمیشہ سے مقبول ومعروف رہی۔تقریباً ہر دیوان اور مجموعہ کلام میں نعتیہ اشعار مل جاتے ہیں، شاعری کے علاوہ نثری کتابوں کے آغاز میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد نعتیہ اشعار بھی مل جاتے ہیں۔پھر کچھ شعراء نے اپنے آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمدو ثنا کے لیے مخصوص کرلیا اور انھوں نے نعت کے علاوہ دوسری اصناف میں شاعری ترک کردی۔

اس نعتیہ روایت کو اس وقت زیادہ تقویت ملی جب نعت کے حوالے سے مختلف رسائل کا اجرا عمل میں آیا۔صبیح رحمانی کا نعت رنگ اسی سلسلے ک…

حدائقِ بخشش کے صنائع بدائع پر ایک نظر

حدائقِ بخشش کے صنائع بدائع پر ایک نظر
مقالہ نگار : ڈاکٹر صابر سنبھلی۔بھارت


ABSTRACT:
Collection of Naatia Poetry of Aala Hazrat Ahmad Raza Khan Brailvi carries ample examples of stylistic beauty of use of similar formed words of different meanings in order to beautify couplets in literary terms. This article cites some beautified couplets from that collection. Use of words carries similarities of sound and forms of words in the same verse by the poet have been highlighted in this article.

حضرت رضاؔ بریلوی کاشاعرانہ کلام کمیّت کے لحاظ سے بہت سے شاعروں کے کلام سے خاصا کم ہے ،لیکن کیفیت کایہ عالم ہے کہ اس پر بہت کچھ لکھے جانے کے باوجود ابھی مزید بہت کچھ لکھے جانے کی گنجائش ہے ۔

شاعری کافنّی پہلو فکری پہلو کے مقابلے فن کار کی توجہ اپنی جانب زیادہ کھینچتا ہے اور اس کی تفصیل عام قاری کو بھی اچھی لگتی ہے ۔ حضرت رضاؔ بریلوی کی شاعری کے دونوں پہلوؤں پر اگر چہ کافی لکھا جا چکا ہے مگر میراخیال ہے کہ فنّی پہلو پر فکری پہلو کی نسبت کم توجہ دی گئی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اس کلام میں برتی گئی صنائع بدائع…
Image
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
پروگرام بعنون علمِ العروض
صابر جاذب لیہ پاکستان






بحر:
عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیں.
جیسے فاعلن ایک رکن ہے اگر اسے چار, چھ یا آٹھ دفعہ مکرر لایا جائے تو اس سے جو وزن حاصل ہو گا اسے بحر کہتے ہیں.

اگر بحر میں ایک ہی رکن کی تکرار ہو تو اسے مفرد بحر کہتے ہیں
اور اگر بحر میں دو یا زیادہ ارکان ہوں تو اسے مرکب بحر کہتے ہیں .
جیسے
فعولن فعولن فعولن فعولن ایک مفرد بحر ہے. کیونکہ یہ ایک ہی رکن کی تکرار سے مرکب ہے.
اور
مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن مرکب بحر ہے
کیونکہ اس میں مختلف ارکان استعمال ہوئے ہیں.
پھر اگر بحر میں ایک یا مختلف ارکان کی تعداد چار ہو تو اسے مربع بحر,
چھ ہو تو مسدس بحر
اور آٹھ ہو تو مثمن بحر کہتے ہیں.
جیسے
مربع بحر:
فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن

مسدس بحر:

فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن

مثمن بحر:

فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن

اصولِ تقطیع

کسی بھی شاعری کا تجزیہ کرنے کے بنیادی اجزاء الفاظ ہوتے ہیں الفاظ، حرکتوں سےمل کر بنتے ہیں اورحرکات حروفوں کے آپس میں ملنے سے۔
کسی بھی شعر کی تقطیع کے لی…

منتخب اقتباسات ومشاہدات

منتخب اقتباسات ومشاہدات

(۱) انسان پہاڑ سے گر کر کھڑا تو ہوسکتا ہے مگر نظروں سے گر کر کھڑا رہنا اس کے بس میں نہیں۔
(۲) انسان آنسوؤں اور مسکراہٹوں کے درمیان لٹکا ہوا پنڈولم ہے۔
(۳) انسانی عادات میں خوش گفتاری اور خلوص سب سے بڑا درجہ رکھتے ہیں۔
(۴) انسان علم کا بہت بڑا بوجھ اٹھانے کے باوجود خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔
(۵) ہر انسان کے اندر ایک بے باک انسان ہوتا ہے اور وہ اس کا ضمیر ہوتا ہے۔
(۶) گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹانے کے لئے کافی ہے۔
(۷) ہر وقت اپنے گناہوں کی معافی اللہ سے چاہو۔
(۸) اللہ کریم گناہوں پر ناراض ہوجاتا ہے اس لئے ہر گناہ سے بچو۔
(۹) گناہ کے بعد ندامت بھی توبہ ہی کی ایک قسم ہے۔
(۱۰) گناہ کے بہت سے پرزے ہیں جو جھوٹ سے جڑ جاتے ہیں۔
(۱۱) گناہ انسانی روح کے لئے زہر کا درجہ رکھتا ہے۔
(۱۲) اپنے تئیں چھوٹا گناہ خیال کرنے والا بڑا گناہگار ہے۔
(۱۳) گناہ تو ہر حال میں گناہ ہے، رضامندی سے گناہ کا درجہ کم نہیں ہوسکتا۔
(۱۴) جھوٹی گواہی بھی گناہ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔
(۱۵) انسان کا دل دکھانا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
(۱۶) گناہ کا اعتراف کرنا اور تائب ہونا بزدلی نہیں باعث نجات ہے۔
(۱۷) کسی…

حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ

حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ

حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی، اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار واقعہ ہوگا۔ تو میں نے اعوذباللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ نہیں آنے دوں گا۔ جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت کہ تم ہمارے نزدیک اولیاء اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو لیکن راہبوں کا لباس پہن لو اور ہماری رضا کے لئے زنّار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار نہیں ہوگا۔

حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ا…